بالوں کا سفید ہونا عمر بڑھنے کے ساتھ ہونے والی ایک قدرتی تبدیلی ہے، تاہم بعض افراد میں یہ عمل کم عمری میں شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے پیچھے جینیاتی عوامل کے ساتھ ساتھ طرز زندگی، اسٹریس، ماحولیاتی اثرات اور بعض غذائی یا طبی عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
بالوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جسم کو مناسب وٹامنز اور معدنیات ملتے رہیں تو بالوں کے فولیکلز اور ان سے متعلق حیاتیاتی عمل کو بہتر غذائی معاونت حاصل ہوسکتی ہے۔
فولک ایسڈ:
فولک ایسڈ وٹامن بی 9 کی مصنوعی شکل ہے جبکہ فولیٹ اس کی قدرتی شکل ہے۔ سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، پھلیاں، گری دار میوے اور بعض پھل فولیٹ کے غذائی ذرائع میں شامل ہیں۔
وٹامن بی 12:
وٹامن بی 12 جسم میں خون کے سرخ خلیات سمیت متعدد اہم افعال کے لیے ضروری ہے۔ بالوں کی رنگت سے متعلق میلانن کی پیداوار کے ساتھ بھی اس وٹامن کا تعلق زیرِ بحث آتا ہے۔ انڈے، دودھ، ڈیری مصنوعات اور بعض غذائیں اس کے ذرائع ہیں۔
کاپر:
کاپر جسم کے ضروری معدنیات میں شامل ہے اور میلانن کی تیاری سے متعلق حیاتیاتی عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔ تل، کاجو، بادام، مختلف اناج، گوشت اور مچھلی سے کاپر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
زنک:
زنک خلیاتی سرگرمیوں اور بالوں کے فولیکلز کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ کدو اور سورج مکھی کے بیج، تربوز کے بیج اور کالے تل اس معدنیے کے غذائی ذرائع ہوسکتے ہیں۔
تاہم صرف کسی ایک وٹامن یا معدنیے کی کمی کو بالوں کی سفیدی کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جینیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ بعض طبی مسائل بھی کم عمری میں بال سفید ہونے سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔
اگر بال معمول سے بہت پہلے یا تیزی سے سفید ہورہے ہوں اور ساتھ دیگر جسمانی علامات بھی موجود ہوں تو خود سے سپلیمنٹس استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا ماہر صحت سے مشورہ کرنا بہتر ہے تاکہ ممکنہ غذائی یا طبی وجوہات کا درست جائزہ لیا جاسکے۔






