شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنر کے بغیر رہنا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن اے سی کو بہت کم درجہ حرارت پر چلانا بجلی کے استعمال میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اسی لیے گھر میں ٹھنڈک اور بجلی کی بچت کے درمیان مناسب توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
24 سے 26 ڈگری کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے؟
بہت سے گھروں میں 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کو آرام اور توانائی کے استعمال کے درمیان ایک عملی رینج سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ہر کمرے کے لیے ایک ہی درجہ حرارت بہترین نہیں ہوتا۔ باہر کا درجہ حرارت، نمی، کمرے کا سائز، دھوپ کا رخ، اے سی کی کارکردگی اور کمرے میں موجود افراد کی تعداد بھی ٹھنڈک اور بجلی کے استعمال پر اثر ڈالتی ہے۔
اس لیے اے سی کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنے کے بجائے اتنا درجہ حرارت منتخب کرنا زیادہ مناسب ہے جس پر کمرہ آرام دہ محسوس ہو۔
22 ڈگری کے بجائے 26 ڈگری کا فرق
اگر اے سی کو بہت کم درجہ حرارت پر سیٹ کیا جائے تو کمپریسر کو کمرے کو مقررہ سطح تک ٹھنڈا رکھنے کے لیے زیادہ دیر کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ درجہ حرارت کو چند ڈگری بڑھانے سے بعض حالات میں توانائی کی کھپت کم کی جاسکتی ہے۔
اسی لیے اگر 22 ڈگری پر کمرہ غیر ضروری طور پر سرد محسوس ہورہا ہو تو 24، 25 یا 26 ڈگری آزمانا بجلی کے استعمال میں کمی لانے کا ایک آسان طریقہ ہوسکتا ہے۔
صرف اے سی کا درجہ حرارت ہی ذمہ دار نہیں
بجلی کے بل میں اضافے کی وجہ صرف thermostat setting نہیں ہوتی۔ کمرے میں براہ راست دھوپ آنا، کھڑکیوں سے گرم ہوا داخل ہونا، فلٹر کا گندا ہونا، پرانا یا کم کارکردگی والا اے سی اور طویل وقت تک مسلسل استعمال بھی بجلی کی کھپت بڑھا سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر کمرے کا دروازہ بار بار کھولا جائے یا کھڑکیاں کھلی رہیں تو اے سی کو ٹھنڈک برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
بجلی بچانے کے لیے چھوٹی تبدیلیاں
اے سی کا فلٹر باقاعدگی سے صاف رکھنا، کمرے کو غیر ضروری طور پر گرم ہونے سے بچانا اور درجہ حرارت کو ضرورت سے بہت کم نہ کرنا بجلی کے استعمال کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگر ممکن ہو تو سونے کے وقت ٹائمر یا مناسب sleep setting استعمال کی جاسکتی ہے، جبکہ پنکھے کے استعمال سے ٹھنڈی ہوا پورے کمرے میں بہتر انداز سے گردش کرسکتی ہے۔
آخرکار بہترین درجہ حرارت وہی ہے جس پر آپ کو آرام بھی ملے اور اے سی غیر ضروری طور پر زیادہ دیر تک نہ چلے۔ اس لیے ہر گھر میں 24 سے 26 ڈگری کی رینج کو اپنی صورتحال کے مطابق آزمایا جاسکتا ہے۔






