تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دلچسپ و عجیب

پانی اور بجلی بچانے کیلئے گیزر کا درجہ حرارت کتنا رکھنا چاہیے؟

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی گھروں میں گیزر کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ گرم پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے لوگ گیزر کئی کئی گھنٹے چلتا چھوڑ دیتے ہیں۔

بعض افراد اسے آن کرکے خودکار طور پر بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ اس عادت سے گیس اور بجلی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گرم پانی ضائع ہونے سے پانی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔

گیزر کا آٹو کٹ فیچر پانی گرم ہونے پر ہیٹنگ کو بند کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیزر کو ہر وقت چلتا چھوڑ دیا جائے۔ گیزر کی قسم، اس کی طاقت، پانی کی مقدار اور استعمال کے دورانیے کے مطابق توانائی خرچ ہوتی ہے۔

 چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر گرم پانی کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ اخراجات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔

گیزر کا درجہ حرارت کتنا رکھنا چاہیے؟

گیزر کا درجہ حرارت مناسب رکھنا گیس اور بجلی کی بچت میں مدد دے سکتا ہے۔ عام طور پر گھریلو پانی گرم کرنے کے لیے 50 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کی ترتیب استعمال کی جاتی ہے، لیکن درست درجہ حرارت کا انحصار گیزر کی قسم اور کمپنی کی ہدایات پر ہوتا ہے۔ پانی کو ضرورت سے زیادہ گرم کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

نہانے کے لیے تقریباً 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ پانی بہت سے افراد کو مناسب محسوس ہوتا ہے۔ اگر گیزر کا پانی زیادہ گرم ہو تو اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچوں اور بزرگوں کو نہلانے سے پہلے پانی کا درجہ حرارت ضرور چیک کریں، کیونکہ بہت گرم پانی جلد کو جلا سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ گیزر میں موجود پانی کا درجہ حرارت اور نہانے کے وقت استعمال ہونے والے پانی کا درجہ حرارت مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے صرف درجہ حرارت کی ترتیب دیکھنے کے بجائے پانی کو احتیاط سے چیک کرنا ضروری ہے۔

گیس والے گیزر سے بچت کیسے کریں؟

پاکستان کے بہت سے گھروں میں گیس سے چلنے والے گیزر استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں گیس کی کھپت کا تعلق گیزر کی کارکردگی، پانی کو گرم کرنے کی مقدار اور استعمال کے دورانیے سے ہوتا ہے۔ اگر گیزر میں درجہ حرارت کم یا زیادہ کرنے کا آپشن موجود ہو تو اسے ضرورت کے مطابق رکھیں۔

گیزر کو بلاوجہ زیادہ دیر تک چلانے سے گریز کریں۔ پانی گرم ہونے کے بعد، گیزر کی ہدایات کے مطابق اسے بند کر دیں۔ اگر اس میں مسلسل جلنے والا پائلٹ یا شعلہ موجود ہو تو اس کے استعمال سے متعلق کمپنی کی ہدایات پر عمل کریں۔

گیس کا پریشر کم ہونے پر گیزر کی حفاظتی ترتیب خود سے تبدیل کرنا مناسب نہیں۔ ایسی صورت میں مستند ٹیکنیشن سے معائنہ کروائیں۔ گیزر کی بروقت صفائی اور مرمت بھی ضروری ہے، کیونکہ خرابی یا گیس کے اخراج کی صورت میں اخراجات کے ساتھ حفاظت کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

بجلی والا گیزر کتنے یونٹ استعمال کرتا ہے؟

بجلی سے چلنے والے گیزر کی کھپت اس کی طاقت اور ہیٹنگ کے دورانیے پر منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر 3 ہزار واٹ یعنی 3 کلوواٹ کا گیزر ایک گھنٹے تک مسلسل بجلی استعمال کرے تو وہ تقریباً 3 یونٹ خرچ کرے گا۔

اسی حساب سے اگر یہ گیزر روزانہ ایک گھنٹہ مسلسل چلتا رہے تو ماہانہ کھپت تقریباً 90 یونٹ بن سکتی ہے۔ روزانہ دو گھنٹے مسلسل چلانے کی صورت میں یہ مقدار تقریباً 180 یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ صرف ایک مثال ہے۔ بعض گیزر پانی گرم ہونے کے بعد خود ہی ہیٹنگ بند کر دیتے ہیں۔ اس لیے حقیقی کھپت اس حساب سے کم بھی ہو سکتی ہے۔ بجلی کی بچت کے لیے گیزر کو ضرورت کے مطابق چلائیں اور پانی گرم ہونے کے بعد اسے بند کر دیں۔ اگر گیزر میں ٹائمر یا درجہ حرارت کنٹرول کی سہولت موجود ہو تو اسے کمپنی کی ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔

گیزر کتنی دیر پہلے آن کرنا چاہیے؟

گیزر کو چلانے کا مناسب وقت اس کے سائز، طاقت اور پانی کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ چھوٹے گیزر میں پانی نسبتاً جلد گرم ہو سکتا ہے، جبکہ بڑے اسٹوریج ٹینک کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے ہر گیزر کے لیے 10 یا 15 منٹ کا ایک ہی اصول درست نہیں۔

بہتر ہے کہ گیزر کی کمپنی کی ہدایات دیکھیں اور پانی کی ضرورت کے مطابق اسے چلائیں۔ اگر گھر میں فوری پانی گرم کرنے والا گیزر نصب ہے تو اس کا طریقہ اسٹوریج گیزر سے مختلف ہوگا۔ اسے استعمال کرتے وقت بھی درجہ حرارت اور حفاظتی ہدایات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

گرم پانی کے ساتھ پانی بھی بچائیں

گیزر سے بچت کا تعلق صرف گیس اور بجلی سے نہیں بلکہ پانی کے درست استعمال سے بھی ہے۔ نہاتے وقت بالٹی استعمال کرنا ایک آسان طریقہ ہے، کیونکہ اس سے پانی کی مقدار کو قابو میں رکھنا ممکن ہوتا ہے۔

اگر شاور استعمال کرتے ہیں تو نہانے کا دورانیہ مختصر رکھیں۔ صابن لگاتے وقت پانی بند کر دیں اور ضرورت پوری ہونے کے بعد نل کھلا نہ چھوڑیں۔ اس طرح گرم پانی ضائع ہونے سے بچے گا اور اسے دوبارہ گرم کرنے کے لیے درکار گیس یا بجلی بھی کم خرچ ہو سکتی ہے۔

اگر گرم پانی کی فراہمی جلد ختم ہو جاتی ہے تو گیزر کو بار بار چلانے کے بجائے پہلے اس کی گنجائش اور گھر میں پانی کے استعمال کا جائزہ لیں۔ گھر کے افراد کے درمیان گرم پانی کے استعمال کا مناسب وقت طے کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

گیزر کی صفائی اور مرمت کیوں ضروری ہے؟

پانی میں موجود نمکیات اور معدنیات وقت کے ساتھ گیزر کے اندر تہہ بنا سکتے ہیں۔ اس سے اس کی کارکردگی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر گیزر پہلے سے زیادہ وقت لے رہا ہو، پانی مناسب طور پر گرم نہ ہو رہا ہو یا غیر معمولی آوازیں آ رہی ہوں تو مستند ٹیکنیشن سے اس کی جانچ کروائیں۔

گیس والے گیزر میں ہوا کی مناسب آمدورفت بہت ضروری ہے۔ اسے بند اور ہوا سے محروم جگہ پر نصب کرنے سے خطرناک گیس جمع ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ گیزر کی تنصیب اور مرمت ہمیشہ مستند ماہر سے کروائیں۔

اگر گیس کی بو محسوس ہو تو آگ نہ جلائیں اور بجلی کے سوئچ استعمال نہ کریں۔ محفوظ جگہ پر چلے جائیں اور متعلقہ گیس کمپنی یا ہنگامی سروس سے رابطہ کریں۔ بجلی والے گیزر میں تاروں، سوئچ، ارتھنگ اور حفاظتی نظام کی جانچ بھی ضروری ہے۔

نیا گیزر خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

اگر آپ نیا گیزر خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو صرف قیمت یا سائز کو مدنظر نہ رکھیں۔ گھر میں گیس اور بجلی کی دستیابی، افراد کی تعداد، گرم پانی کی روزانہ ضرورت اور گیزر کی توانائی بچانے کی صلاحیت کا جائزہ لیں۔

ایسا گیزر منتخب کریں جو گھر کی ضرورت کے مطابق ہو۔ اس کے ساتھ کمپنی کی ہدایات پر عمل کریں اور وقتاً فوقتاً اس کی حالت بھی چیک کرتے رہیں۔

گیزر کا درست استعمال سردیوں میں ماہانہ اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ غیر ضروری طور پر اسے چلتا چھوڑنے سے گریز، مناسب درجہ حرارت، پانی کا محتاط استعمال اور بروقت مرمت نہ صرف گیس اور بجلی کی بچت میں مدد دیتے ہیں بلکہ گھر میں گرم پانی کے محفوظ استعمال کو بھی یقینی بناتے ہیں۔