آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے محققین کی تحقیق کے مطابق باقاعدہ ورزش سگریٹ نوشی چھوڑنے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں ورزش کو نکوٹین کی طلب کم کرنے اور سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد دوبارہ تمباکو نوشی شروع کرنے کے امکانات گھٹانے کے لیے معاون طریقہ قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق میں 59 کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کا جائزہ لیا گیا، جن میں تقریباً 9 ہزار افراد شامل تھے۔ محققین نے سگریٹ نوشی ترک کرنے، نکوٹین کی طلب، ترکِ تمباکو کے دوران سامنے آنے والی علامات اور موڈ پر ورزش کے ممکنہ اثرات کا مطالعہ کیا۔
سگریٹ نوشی ترک کرنے کے امکانات میں اضافہ
تحقیق کے نتائج کے مطابق ورزش کرنے والے افراد میں سگریٹ نوشی کامیابی سے ترک کرنے کے امکانات 15 فیصد زیادہ پائے گئے، جبکہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کے بعد اس پر قائم رہنے کے امکانات میں 21 فیصد بہتری دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق جسمانی سرگرمی نکوٹین کی طلب اور ترکِ تمباکو کے دوران پیدا ہونے والی بے چینی جیسی علامات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔ باقاعدہ ورزش کو نسبتاً آسان اور کم خرچ معاون طریقہ قرار دیا گیا ہے۔
ورزش علاج کا متبادل نہیں
تحقیق میں واضح کیا گیا کہ ورزش کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لیے پیشہ ورانہ مشاورت یا نکوٹین کی لت کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ تمباکو نوشی چھوڑنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے طبی مشورہ اور مناسب معاونت اہم رہتی ہے۔
سگریٹ نوشی دنیا بھر میں بیماریوں اور اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج Journal of Sport and Health Science میں شائع ہوئے۔ اس سے قبل دسمبر 2023 میں یونیورسٹی آف انسبرک کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ تیز چہل قدمی سمیت تقریباً 10 منٹ کی معتدل ورزش عارضی طور پر سگریٹ کی طلب اور ترکِ تمباکو کی بعض علامات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔






