تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دلچسپ و عجیب

جینز کی جیبوں پر لگے چھوٹے دھاتی بٹن کس کام آتے ہیں؟ دلچسپ وجہ جانیں

جینز کے دھاتی بٹن

جینز تقریباً ہر عمر کے افراد کا پسندیدہ لباس ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اس کی جیبوں کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے دھاتی بٹن کیوں لگے ہوتے ہیں؟ بظاہر یہ جینز کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، مگر ان کا بنیادی مقصد کپڑے کو مضبوط بنانا ہے۔

جینز کی جیبوں کے کناروں پر لگے ان دھاتی ٹکڑوں کو ریوٹس (Rivets) کہا جاتا ہے۔ یہ کپڑے کے ان حصوں کو مضبوط بنانے کے لیے لگائے جاتے ہیں جہاں بار بار کھنچاؤ پڑنے سے جیب یا سلائی پھٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ریوٹس جینز کو کیسے مضبوط بناتے ہیں؟

جیب میں بار بار ہاتھ ڈالنے یا موبائل فون، چابیاں اور دوسری اشیا رکھنے سے جیبوں کے کناروں پر دباؤ پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ دباؤ کپڑے اور سلائی کو کمزور کر سکتا ہے۔

ریوٹس کپڑے کی تہوں کو مضبوطی سے جوڑ کر ان حصوں پر دباؤ برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں خاص طور پر جیبوں کے کناروں جیسے حساس مقامات پر لگایا جاتا ہے۔

یہ ایجاد کس نے متعارف کرائی؟

جینز میں دھاتی ریوٹس استعمال کرنے کی تاریخ 1870 کی دہائی سے جڑی ہے۔ امریکی درزی جیکب ڈیوس نے محنت مزدوری کرنے والے افراد کی پتلونوں میں جیبوں کے قریب کپڑا پھٹنے کا مسئلہ محسوس کیا۔ اس کے حل کے لیے انہوں نے کمزور حصوں پر دھاتی ریوٹس لگانے کا طریقہ اپنایا۔

بعدازاں جیکب ڈیوس نے کاروباری شخصیت لیوی اسٹراس کے ساتھ مل کر اس ایجاد کو تجارتی شکل دی۔ دونوں نے 20 مئی 1873 کو اس ڈیزائن کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ وقت کے ساتھ یہ دھاتی ریوٹس ڈینم جینز کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہو گئے۔

کچھ جینز میں دھاتی بٹن کیوں نہیں ہوتے؟

ہر جینز میں ریوٹس کا ہونا ضروری نہیں۔ ماضی میں پچھلی جیبوں پر لگے دھاتی ریوٹس سے فرنیچر اور گھوڑوں کی زین پر خراشیں پڑنے کی شکایات سامنے آئیں۔ اسی وجہ سے لیوی اسٹراس کی کمپنی نے پچھلی جیبوں کے ریوٹس کو چھپانے اور بعد میں انہیں ہٹانے کے اقدامات کیے۔

آج کئی کمپنیاں مضبوط سلائی اور دیگر طریقوں سے جیبوں کو پائیدار بناتی ہیں، اس لیے بعض ڈیزائنز میں یہ دھاتی ٹکڑے نظر نہیں آتے۔

کیا آج بھی ریوٹس ضروری ہیں؟

جدید جینز میں ریوٹس جیبوں کے کمزور حصوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن یہ کپڑے کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ نہیں رکھتے۔ ان کا استعمال اب بھی کئی ڈیزائنز میں جاری ہے، کیونکہ یہ عملی فائدے کے ساتھ جینز کے روایتی انداز کی بھی پہچان بن چکے ہیں۔