کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو) — 17 اکتوبر 2026: کنوارے اکثر یہ سوچ کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی میں نہ شریکِ حیات کی ناراضی کا خوف ہے، نہ گھریلو ذمہ داریوں کی بھرمار اور نہ ہی روزمرہ کے ازدواجی جھگڑے! لیکن سائنس نے خوشی کے معاملے میں ایک دلچسپ تصویر پیش کردی ہے۔
امریکا میں ہونے والے بڑے سروے اور جرمنی میں ہزاروں افراد کے طویل مدتی اعدادوشمار پر مبنی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شادی شدہ یا خوشگوار رومانوی تعلق رکھنے والے افراد، اوسطاً تنہا زندگی گزارنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوش اور جذباتی طور پر مطمئن ہوسکتے ہیں۔
البتہ سائنس دانوں نے اس خوشی کی ایک اہم شرط بھی بتائی ہے: رشتہ اچھا ہونا چاہیے، کیونکہ خراب تعلق بعض اوقات اکیلے رہنے سے بھی زیادہ ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
شادی شدہ افراد نے کنواروں کو کتنے فرق سے پیچھے چھوڑا؟
امریکی ادارے گیلپ نے مارچ 2024 میں شادی اور زندگی سے اطمینان سے متعلق ایک تفصیلی تجزیہ شائع کیا، جس میں 2009 سے 2023 تک جمع کیے گئے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق 2023 میں 25 سے 50 سال کی عمر کے شادی شدہ امریکیوں میں 61 فیصد افراد نے اپنی موجودہ اور مستقبل کی زندگی کو اتنی مثبت درجہ بندی دی کہ انہیں بہتر زندگی گزارنے والے افراد کے زمرے میں رکھا گیا۔
اس کے مقابلے میں کبھی شادی نہ کرنے والے افراد میں یہ شرح صرف 45 فیصد تھی۔
یعنی دونوں گروہوں کے درمیان پورے 16 فیصد پوائنٹس کا فرق سامنے آیا۔
یہ فرق محض ایک سال تک محدود نہیں تھا۔ گیلپ کے مطابق 2009 سے 2023 تک ہر سال شادی شدہ افراد کو زندگی سے اطمینان کے معاملے میں برتری حاصل رہی۔
57 فیصد شادی شدہ افراد اپنی زندگی سے بہت مطمئن!
گیلپ کے فروری 2024 میں شائع ہونے والے ایک دوسرے سروے میں بھی دلچسپ نتائج سامنے آئے۔
اس سروے میں 57 فیصد شادی شدہ امریکیوں نے کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی سے بہت زیادہ مطمئن ہیں۔
دوسری جانب غیر شادی شدہ افراد میں یہ شرح صرف 38 فیصد تھی۔
یعنی شادی شدہ افراد میں بہت زیادہ مطمئن ہونے والوں کی شرح 19 فیصد پوائنٹس زیادہ تھی۔
تاہم یہ اعدادوشمار امریکی آبادی سے متعلق ہیں، انہیں پاکستان یا پوری دنیا کے تمام افراد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
2026 کی تحقیق میں ایک اور حیران کن حقیقت سامنے آگئی
سال 2026 میں سائنسی جریدے پرسنالٹی اینڈ انفرادی اختلافات میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں جرمنی کے تقریباً 12 ہزار افراد کے طویل مدتی سروے کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین نے تعلقات کی حیثیت اور جذباتی کیفیت کے درمیان تعلق جانچنے کے لیے 13 مختلف ادوار میں جمع کیے گئے اعدادوشمار استعمال کیے۔
نتائج کے مطابق لوگ عمومی طور پر ان ادوار میں زیادہ جذباتی طور پر مطمئن تھے جب وہ کسی قریبی رومانوی تعلق میں تھے، بنسبت ان ادوار کے جب وہ تنہا تھے۔
لیکن تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو کچھ اور تھا۔
خراب شادی سے بہتر کنوارا رہنا؟
محققین نے پایا کہ اچھے معیار کے تعلقات رکھنے والے افراد کی جذباتی کیفیت بہتر تھی۔
اس کے برعکس خراب یا درمیانے معیار کے تعلقات میں موجود افراد کے مقابلے میں تنہا افراد بعض پہلوؤں سے زیادہ جذباتی طور پر مطمئن پائے گئے۔
اس نتیجے سے واضح ہوتا ہے کہ محض شادی یا کسی تعلق میں ہونا خوشی کی ضمانت نہیں۔
اگر تعلق میں احترام، اعتماد، محبت اور ذہنی سکون نہ ہو تو وہ انسان کے لیے خوشی کے بجائے پریشانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
کیا مردوں کو تنہائی زیادہ پریشان کرتی ہے؟
جرمنی کی اسی تحقیق میں ایک اور دلچسپ رجحان سامنے آیا۔
مردوں میں تنہا رہنے کا تعلق خواتین کے مقابلے میں قدرے زیادہ منفی جذبات سے پایا گیا۔
تاہم محققین کے مطابق یہ فرق چھوٹا تھا، اس لیے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تمام مرد تنہائی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں یا تمام خواتین اکیلے زیادہ خوش رہتی ہیں۔
انفرادی شخصیت، سماجی تعلقات اور زندگی کے حالات بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شادی کے بعد خوشی کیوں بڑھ سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق خوشگوار ازدواجی زندگی میں چند عوامل اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ایک دوسرے کا جذباتی سہارا، مشکل وقت میں تعاون، مستقبل کے بارے میں مشترکہ منصوبہ بندی اور اپنائیت کا احساس زندگی سے اطمینان بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
گیلپ کے تجزیے میں شادی شدہ افراد نے اپنے تعلقات کو زیادہ محبت بھرا اور معاون بھی قرار دیا۔
تاہم مالی استحکام، مذہبی سرگرمیوں، سماجی تعلقات اور پہلے سے موجود خوشی جیسے عوامل بھی نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے محققین احتیاط کرتے ہیں کہ شادی شدہ افراد میں زیادہ خوشی کا رجحان دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ صرف نکاح ہوتے ہی ہر شخص کی خوشی لازماً بڑھ جائے گی۔
کیا پہلے سے خوش لوگ شادی کرتے ہیں؟
اس سوال پر بھی سائنسی تحقیق ہوچکی ہے۔
بعض طویل مدتی مطالعات میں معلوم ہوا کہ پہلے سے زیادہ خوش اور مطمئن افراد کے مستقل تعلقات قائم کرنے کے امکانات بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شادی اور خوشی کے درمیان تعلق دو طرفہ بھی ہوسکتا ہے۔
ایک اچھا رشتہ خوشی بڑھا سکتا ہے، جبکہ پہلے سے مطمئن زندگی گزارنے والے افراد کے کامیاب تعلقات قائم کرنے کے امکانات بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی کنواروں کے لیے اس تحقیق میں کیا پیغام ہے؟
پاکستان میں شادی کے بارے میں معاشرتی توقعات، خاندانی ذمہ داریاں اور معاشی حالات مغربی ممالک سے مختلف ہیں۔
اس لیے امریکی یا جرمن تحقیق کے نتائج کو براہِ راست پاکستانی معاشرے کا سائنسی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
البتہ ان تحقیقات سے ایک عمومی سبق ضرور سامنے آتا ہے کہ انسان کی خوشی میں مضبوط اور معاون تعلقات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شادی سے پہلے مناسب شریکِ حیات کا انتخاب اور شادی کے بعد باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کسی بھی رشتے کو بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔
آخر خوشی کا تاج کس کے سر؟
تحقیقات میں شادی شدہ افراد کو اوسطاً زیادہ مطمئن پایا گیا ہے، مگر ہر شادی کامیاب نہیں ہوتی اور ہر کنوارا ناخوش نہیں ہوتا۔
سائنس کا دلچسپ نتیجہ یہ ہے کہ شادی خوشی کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اصل کامیابی اچھے شریکِ حیات اور خوشگوار تعلق میں پوشیدہ ہے۔
یوں کنواروں کے لیے پیغام صرف جلد شادی کرنا نہیں، بلکہ ایسا رشتہ تلاش کرنا ہے جس میں محبت کے ساتھ ذہنی سکون بھی موجود ہو۔






