زمین سے باہر زندگی کی موجودگی سے متعلق قیاس آرائیوں نے ایک بار پھر توجہ حاصل کرلی ہے۔
اس کی وجہ بلغاریہ کی آنجہانی پیش گو بابا وانگا سے منسوب ایک پیشگوئی ہے، جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انسانیت نومبر میں کسی خلائی تہذیب سے سامنا کرسکتی ہے۔
بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک بہت بڑا خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہوسکتا ہے۔ اس دعوے کے بعد خلائی مخلوق اور زمین سے باہر زندگی کے امکان میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ ایک مرتبہ پھر اس موضوع کی جانب مبذول ہوگئی ہے۔
تاہم بابا وانگا سے منسوب اس پیشگوئی کے اصل ماخذ اور اس کی صداقت کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، اس لیے اسے سائنسی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
بابا وانگا کا اصل نام وینگیلیا پاندیوا گشتروفا تھا۔ وہ 1911 میں بلغاریہ میں پیدا ہوئیں اور 1996 میں انتقال کرگئیں۔
وہ اپنی زندگی کے دوران روحانی پیش گو کی حیثیت سے مشہور ہوئیں۔ ان کے نام سے دنیا کے مستقبل، جنگوں، قدرتی آفات، عالمی واقعات اور خلائی مخلوق سے متعلق متعدد پیشگوئیاں منسوب کی جاتی رہی ہیں۔
تاہم ان سے منسوب کئی پیشگوئیوں کے اصل ماخذ اور ان کے ابتدائی ریکارڈ کے بارے میں واضح شواہد دستیاب نہیں۔
سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق نومبر میں انسانیت کا کسی خلائی تہذیب سے سامنا ہوسکتا ہے اور ایک بڑے خلائی جہاز کے زمین کی فضا میں داخل ہونے کی بات بھی کی جارہی ہے۔
تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی قابل اعتماد سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
سائنس دان زمین سے باہر زندگی کے شواہد تلاش کرنے کے لیے مختلف منصوبوں اور سائنسی طریقوں پر کام کررہے ہیں، جن میں دور دراز سیاروں اور ان کے ماحول کا مطالعہ بھی شامل ہے۔
زمین سے باہر زندگی کے امکان کو سائنسی تحقیق کا ایک اہم موضوع سمجھا جاتا ہے، تاہم اب تک کسی خلائی تہذیب کے زمین سے رابطے یا کسی خلائی مخلوق کے زمین پر پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
نومبر میں کسی خلائی تہذیب سے رابطے یا کسی بڑے خلائی جہاز کے زمین پر آنے کے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے براہ راست اور قابل اعتماد سائنسی شواہد ضروری ہوں گے۔
فی الحال بابا وانگا سے منسوب یہ پیشگوئی ایک غیر مصدقہ دعوے کے طور پر ہی دیکھی جاسکتی ہے، جبکہ خلائی زندگی کی تلاش بدستور سائنسی تحقیق کا حصہ ہے۔






