امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال اور دائمی بے خوابی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
محققین نے ہزاروں افراد کی غذائی عادات اور نیند سے متعلق معلومات کا جائزہ لے کر دیکھا کہ زیادہ پراسیس شدہ خوراک استعمال کرنے والوں میں طویل عرصے تک نیند کے مسائل کی شکایات کس حد تک پائی جاتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خوراک کے انتخاب اور نیند کے معیار کے درمیان تعلق ہوسکتا ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایسی غذائیں براہِ راست بے خوابی کا سبب بنتی ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے محققین سے منسوب اس تجزیے میں 2013 سے 2015 کے دوران جمع کیے گئے تقریباً 39 ہزار افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔ اس میں شرکا کی غذائی عادات اور بے خوابی کی علامات سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق شرکا کی روزمرہ غذائی ضروریات کا اوسطاً 16 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں سے حاصل ہوتا تھا، جبکہ تقریباً 20 فیصد افراد نے دائمی بے خوابی کی علامات رپورٹ کیں۔
الٹرا پروسیسڈ غذائیں کیا ہوتی ہیں؟
الٹرا پروسیسڈ غذاؤں میں عموماً صنعتی طریقوں سے تیار کی جانے والی ایسی مصنوعات شامل ہوتی ہیں جن میں مختلف اضافی اجزا، ذائقے، مٹھاس یا دیگر پراسیسنگ کے ذریعے خوراک کی شکل اور مدتِ استعمال تبدیل کی جاتی ہے۔ ان کی مثالوں میں بعض پیک شدہ بیکری مصنوعات، فاسٹ فوڈ، کینڈی، کیک، نمکین اسنیکس، بعض ناشتے کے سیریلز، چکن نگٹس، فوری تیار ہونے والے نوڈلز اور میٹھے مشروبات شامل ہوسکتے ہیں۔
تاہم ہر پیک شدہ خوراک لازماً ایک جیسی نہیں ہوتی اور غذائی مصنوعات کی درجہ بندی ان کے اجزا اور تیاری کے طریقے پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی ایک چیز کو صرف پیکنگ کی بنیاد پر غیر صحت بخش قرار دینے کے بجائے اس کی غذائی تفصیلات اور مجموعی خوراک کے تناظر کو دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
تحقیق میں کیا تعلق سامنے آیا؟
محققین کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دائمی بے خوابی کا امکان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔ تحقیق کو جرنل آف دی اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس میں شائع ہونے والے مطالعے سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی تحقیق میں شرکا کی غذائی عادات اور نیند کی علامات کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا جاتا ہے، لیکن دیگر عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
مثلاً ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمی، کام کے اوقات، کیفین کا استعمال، مجموعی صحت اور سونے جاگنے کے معمولات نیند کے معیار کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اگرچہ خوراک ایک اہم قابلِ توجہ پہلو ہوسکتی ہے، لیکن بے خوابی کی ہر صورت کو صرف غذائی انتخاب سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
نیند بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟
صحت مند معمولات کے لیے متوازن غذا، سبزیوں، پھلوں، دالوں اور مناسب پروٹین والی غذاؤں کو ترجیح دینا مفید ہوسکتا ہے۔ سونے اور جاگنے کے اوقات باقاعدہ رکھنا، رات کے وقت کیفین سے احتیاط کرنا اور سونے سے پہلے پرسکون ماحول قائم کرنا بھی مددگار اقدامات ہیں۔
اگر نیند کا مسئلہ مسلسل جاری رہے، روزمرہ زندگی متاثر ہو یا دن کے وقت شدید تھکن محسوس ہو تو طبی ماہر سے مشورہ لینا چاہیے۔ تحقیق کا اہم پیغام یہ ہے کہ خوراک اور نیند کے تعلق کو مزید سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ یہ کہ کسی مخصوص غذا کو چھوڑنے سے ہر شخص کی بے خوابی ختم ہوجائے گی۔






