آئی ایم ایف پاکستان مذاکرات کے پالیسی راؤنڈ میں عالمی مالیاتی ادارے کے جائزہ مشن نے پیٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔
مذاکرات میں کیا طے ہوا
ذرائع کے مطابق مشن اور پیٹرولیم ڈویژن کے درمیان سبسڈی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مشن نے موجودہ مستفیدین کی سہولت برقرار رکھنے کی گنجائش دی، مگر دائرہ بڑھانے سے روک دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فنڈ سبسڈی کو فوری ختم کرنے کے بجائے اس کے مالی پھیلاؤ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔
اسی دوران مشن نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
پس منظر
پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا پابند ہے، اور ہر جائزہ اگلی قسط کی منظوری کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔ شوگر سیکٹر میں قیمتوں اور درآمد و برآمد کے فیصلوں میں ریاستی مداخلت برسوں سے تنقید کی زد میں ہے۔ ٹیکس چھوٹ اور سبسڈیاں بھی وہ شعبے ہیں جہاں فنڈ مالی نظم و ضبط کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔
وفاق اور سندھ کا اختلاف
ذرائع کے مطابق حکومتِ سندھ نے وفاق کی شوگر پالیسی کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔ وفاق نے مشن کو بتایا کہ اسی اختلاف کے باعث پالیسی طے نہیں ہو سکی۔ مشن نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مشاورت مکمل کی جائے۔ یوں مسئلہ صرف آئی ایم ایف کی شرائط کا نہیں رہا، یہ وفاقی اور صوبائی اختیارات کی تقسیم کا سوال بھی بن گیا ہے۔
عوام اور مارکیٹ پر اثر
نئے صارفین کے لیے سبسڈی کے دروازے بند ہونے سے وہ گھرانے متاثر ہوں گے جو اس اسکیم کی توقع رکھتے تھے۔ شوگر انڈسٹری، صوبائی حکومتوں اور گاڑی سازوں کو بھی پالیسی تبدیلیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ صارفین کے لیے اصل سوال چینی کی قیمت اور ایندھن کی دستیابی ہے۔
آئندہ کا منظر
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق تمام امور رواں ہفتے مکمل کرنے کا ہدف ہے، اور اقتصادی ٹیم کی بات چیت آج بھی جاری رہے گی۔ آنے والے دنوں میں شوگر پالیسی پر وفاق اور سندھ کی مفاہمت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو مذاکرات کا یہ نکتہ تعطل کا سبب بن سکتا ہے۔






