تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

آئی ایم ایف کی مشروط پیٹرول سبسڈی پر آمادگی، شوگر ڈی ریگولیشن مطالبہ برقرار

آئی ایم ایف پاکستان مذاکرات کے پالیسی راؤنڈ میں عالمی مالیاتی ادارے کے جائزہ مشن نے پیٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔ 

مذاکرات میں کیا طے ہوا

ذرائع کے مطابق مشن اور پیٹرولیم ڈویژن کے درمیان سبسڈی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مشن نے موجودہ مستفیدین کی سہولت برقرار رکھنے کی گنجائش دی، مگر دائرہ بڑھانے سے روک دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فنڈ سبسڈی کو فوری ختم کرنے کے بجائے اس کے مالی پھیلاؤ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

اسی دوران مشن نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

پس منظر

پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا پابند ہے، اور ہر جائزہ اگلی قسط کی منظوری کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔ شوگر سیکٹر میں قیمتوں اور درآمد و برآمد کے فیصلوں میں ریاستی مداخلت برسوں سے تنقید کی زد میں ہے۔ ٹیکس چھوٹ اور سبسڈیاں بھی وہ شعبے ہیں جہاں فنڈ مالی نظم و ضبط کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

وفاق اور سندھ کا اختلاف

ذرائع کے مطابق حکومتِ سندھ نے وفاق کی شوگر پالیسی کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔ وفاق نے مشن کو بتایا کہ اسی اختلاف کے باعث پالیسی طے نہیں ہو سکی۔ مشن نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مشاورت مکمل کی جائے۔ یوں مسئلہ صرف آئی ایم ایف کی شرائط کا نہیں رہا، یہ وفاقی اور صوبائی اختیارات کی تقسیم کا سوال بھی بن گیا ہے۔

عوام اور مارکیٹ پر اثر

نئے صارفین کے لیے سبسڈی کے دروازے بند ہونے سے وہ گھرانے متاثر ہوں گے جو اس اسکیم کی توقع رکھتے تھے۔ شوگر انڈسٹری، صوبائی حکومتوں اور گاڑی سازوں کو بھی پالیسی تبدیلیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ صارفین کے لیے اصل سوال چینی کی قیمت اور ایندھن کی دستیابی ہے۔

آئندہ کا منظر

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق تمام امور رواں ہفتے مکمل کرنے کا ہدف ہے، اور اقتصادی ٹیم کی بات چیت آج بھی جاری رہے گی۔ آنے والے دنوں میں شوگر پالیسی پر وفاق اور سندھ کی مفاہمت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو مذاکرات کا یہ نکتہ تعطل کا سبب بن سکتا ہے۔