اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025-26 کی سالانہ پیمنٹ سسٹمز ریویو رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں ملک کے ادائیگیوں کے نظام میں ہونے والی اہم تبدیلیوں اور ڈیجیٹل لین دین میں اضافے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ریٹیل ادائیگیوں کے حجم میں سالانہ بنیاد پر 58 فیصد اضافہ ہوا۔ اس عرصے میں ریٹیل ادائیگیوں کی مجموعی مالیت 673 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ یہ اعدادوشمار ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں رسمی بینکنگ چینلز کے ذریعے مجموعی طور پر 14.3 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 13.2 ارب لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے کیے گئے۔ اس طرح ریٹیل ادائیگیوں میں ڈیجیٹل چینلز کا کردار مزید مضبوط ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حجم میں سالانہ بنیاد پر 65 فیصد اضافہ ہوا۔ موبائل فون، انٹرنیٹ بینکاری اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔
موبائل فون سے ادائیگیوں میں بڑا اضافہ
موبائل فون کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران موبائل فون پر مبنی ادائیگیوں کی تعداد 11.1 ارب سے تجاوز کرگئی۔
روزمرہ کے مالی معاملات میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ادائیگیوں کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ صارفین بلوں کی ادائیگی، خریداری اور دیگر مالی لین دین کیلئے موبائل پر دستیاب سہولیات سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹ میں انٹرنیٹ بینکاری کے استعمال میں بھی اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مالی سال کے دوران انٹرنیٹ بینکاری پورٹلز کے ذریعے تقریباً 0.3 ارب ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صارفین بینک کی روایتی خدمات کے ساتھ ساتھ آن لائن بینکاری کو بھی تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
ای کامرس میں بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال بڑھ گیا
پاکستان میں آن لائن خریداری کے ساتھ ای کامرس ادائیگیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ای کامرس ٹرانزیکشنز میں اکاؤنٹ پر مبنی آن لائن ادائیگیوں کا حصہ 96 فیصد تک پہنچ گیا۔
یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آن لائن خریداری کیلئے صارفین بینک اکاؤنٹس سے براہ راست ادائیگی کو بڑی تعداد میں استعمال کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ موبائل اور انٹرنیٹ بینکاری کی سہولیات نے بھی آن لائن ادائیگیوں کو مزید آسان بنایا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافے کے ساتھ مالیاتی خدمات تک رسائی بھی بڑھ رہی ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے لین دین نے صارفین کیلئے رقم کی منتقلی اور دیگر مالی معاملات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا ادائیگیوں کا نظام تیزی سے ڈیجیٹل سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ریٹیل ٹرانزیکشنز کی مجموعی تعداد میں اضافہ اور ڈیجیٹل چینلز کا بڑھتا ہوا استعمال اس تبدیلی کی اہم علامت ہے۔
رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق موبائل فون اور آن لائن بینکاری مستقبل میں بھی ادائیگیوں کے نظام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ صارفین کی جانب سے ڈیجیٹل ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک میں جدید مالیاتی سہولیات کے فروغ کا رجحان مزید مضبوط ہورہا ہے۔






