تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

نیشنل سیونگز کے 111 مراکز بند یا ضم کرنے کی تیاری

وفاقی حکومت نے نیشنل سیونگز کے 111 مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بند یا قریبی فعال مراکز میں ضم کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ کم کاروباری سرگرمی اور زیادہ اخراجات والے مراکز کو اس جائزے میں شامل کیا گیا ہے۔

نیشنل سیونگز کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں مراکز کی موجودہ تعداد 374 ہے۔ اسے کم کرکے 263 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مقصد کیلئے مختلف مراکز کی مالی کارکردگی، کاروباری سرگرمی اور ڈپازٹس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق مراکز کے اخراجات اور ان سے حاصل ہونے والے کاروبار کے درمیان توازن کو بھی دیکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہر 10 لاکھ روپے کے ڈپازٹس پر 2,500 روپے آپریشنل اخراجات کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔

111 مراکز کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت

نوٹیفکیشن میں کم کارکردگی والے 111 مراکز کو فوری طور پر اپنی مالی صورتحال بہتر بنانے کیلئے عملی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراکز کو اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار اور ڈپازٹس بڑھانے کے امکانات تلاش کرنے ہوں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مراکز کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع بھی دیا گیا ہے۔ اگر کوئی مرکز اپنے کاروبار اور مالی کارکردگی میں بہتری لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کی صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔

حکام کے مطابق کم کاروباری صلاحیت رکھنے والے بعض مراکز کو زیادہ سرگرم علاقوں میں منتقل کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ ایسے علاقوں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جہاں سرمایہ کاری اور نیشنل سیونگز کی مصنوعات میں دلچسپی زیادہ ہو۔

صارفین کو کیا کرنا پڑ سکتا ہے؟

نیشنل سیونگز کے صارفین کیلئے اس معاملے کا سب سے اہم پہلو مراکز کی ممکنہ بندش یا منتقلی ہے۔ اگر کسی مرکز کو بند کردیا گیا یا قریبی مرکز میں ضم کردیا گیا تو وہاں اکاؤنٹ، سرٹیفکیٹ یا دیگر خدمات لینے والے صارفین کو متبادل مرکز سے رجوع کرنا پڑسکتا ہے۔

اس صورتحال کا اثر خاص طور پر ان افراد پر پڑ سکتا ہے جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہیں نیشنل سیونگز کی معمول کی خدمات حاصل کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم موجودہ نوٹیفکیشن کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام 111 مراکز فوری طور پر بند کیے جارہے ہیں۔ پہلے ان مراکز سے کارکردگی بہتر بنانے کے منصوبے طلب کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد ان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

منتقلی کیلئے بھی منصوبہ تیار ہوگا

نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی مرکز کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو متعلقہ علاقائی ڈائریکٹوریٹس کو 15 روز کے اندر کاروباری اور منتقلی کے منصوبے پیش کرنا ہوں گے۔

اس منصوبے میں مرکز کی موجودہ کاروباری صورتحال اور نئی جگہ کے امکانات کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ملازمین سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

کسی مرکز کی بندش کی صورت میں وہاں تعینات عملے کی تفصیلات، ان کے رہائشی علاقوں اور متبادل تعیناتی کیلئے ترجیحی مقامات کی معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ملازمین کی نئی تعیناتی کے عمل کو منظم بنانا ہے۔

نیشنل سیونگز کے نیٹ ورک میں بڑی تبدیلی

نیشنل سیونگز ملک میں عوام کی بچتیں جمع کرنے اور مختلف بچت اسکیمیں فراہم کرنے والا سرکاری ادارہ ہے۔ یہ ادارہ وزارت خزانہ کے فنانس ڈویژن کے ماتحت کام کرتا ہے۔

ملک بھر میں اس کے سیکڑوں مراکز موجود ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے شہری مختلف نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹس اور دیگر بچت مصنوعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔