تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

وفاقی حکومت نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کا باقاعدہ اجرا کردیا

وفاقی حکومت نے شہریوں کو سستے اور آسان رہائشی مواقع فراہم کرنے کیلئے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کا باقاعدہ اجرا کردیا ہے۔ نئی پالیسی میں خاص طور پر کم آمدن والے اور بے گھر خاندانوں کی رہائش کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 ملک میں رہائش کے مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک جامع اور عملی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد معاشرے کے کمزور اور کم آمدن والے طبقات کیلئے مناسب رہائش تک رسائی آسان بنانا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نئی ہاؤسنگ پالیسی کے ذریعے عام شہریوں کیلئے اپنا گھر حاصل کرنا نسبتاً آسان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی رہائشی ضروریات اور گھروں کی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک منظم طریقہ کار اختیار کیا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق حکومت پالیسی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیلئے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ یہ اقدام صرف گھروں کی کمی دور کرنے تک محدود نہیں ہوگا۔ اس کے ذریعے شہروں کی ترقی کو بھی بہتر اور متوازن بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 میں کم آمدن والے افراد کیلئے رہائش کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت رہائشی ضروریات کو ایک منظم طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے ان خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو موجودہ حالات میں اپنا گھر بنانے یا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

نئی پالیسی میں ماحول دوست رہائشی منصوبوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت تعمیر ہونے والے رہائشی یونٹس کو ماحول دوست بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان گھروں میں جدید ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ رہائشی سہولیات کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

حکومت نے ہاؤسنگ منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کو بھی شامل کیا ہے۔ اس کا مقصد ایسے رہائشی یونٹس اور منصوبے تیار کرنا ہے جو مستقبل کے ماحولیاتی چیلنجز کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔ اس طرح رہائشی ترقی کے ساتھ پائیدار شہری منصوبہ بندی کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

وفاقی حکومت کے مطابق نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 ملک میں رہائشی مسائل کے حل کیلئے ایک اہم قدم ہے۔ پالیسی کے مؤثر نفاذ سے کم آمدن والے اور بے گھر خاندانوں کیلئے رہائش کے مواقع بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی ملک میں پائیدار اور متوازن شہری ترقی کو بھی فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگی۔