تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

پاکستان ریلوے کے مالی خسارے میں 11 فیصد اضافہ، حکومتی گرانٹ پر انحصار بڑھ گیا

پاکستان ریلوے

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران پاکستان ریلوے کا خسارہ 11 فیصد اضافے کے ساتھ 29 ارب 35 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ کی شرط پر سرکاری اداروں سے متعلق جاری کردہ نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے کی مالی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور گزشتہ 6 ماہ کے دوران پاکستان ریلوے کو 29 ارب 35 کروڑ روپے کا بھاری خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کے خسارے میں مجموعی طور پر 11 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل ریلوے کا خسارہ 26 ارب 51 کروڑ روپے تھا۔ پاکستان ریلوے کا کاروباری ماڈل انتہائی کمزور ہے اور اس کا سارا انحصار حکومتی گرانٹس پر بہت زیادہ ہے۔

مالی سال کے دوران دسمبر تک پاکستان ریلوے کو 35 ارب روپے کی بھاری گرانٹ دی گئی، جس کی وجہ سے ریلوے کا آپریشنل خسارہ بڑھ کر 29 ارب 63 کروڑ روپے تک جا پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق ریلوے کی آمدن میں صرف 2 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا اور 6 ماہ کی مجموعی آمدن 46 ارب 65 کروڑ روپے رہی، جبکہ ریلوے کی آپریٹنگ لاگت میں 90.4 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ ریلوے کے مجموعی واجبات میں 4 فیصد اضافہ ہونے سے ان کا حجم 107 ارب 48 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، جس میں ریلوے کے ذمے غیر ملکی قرضہ 26 ارب 18 کروڑ روپے ہے اور جمع شدہ سود کا حجم 4 ارب 32 کروڑ روپے ہو چکا ہے۔

ماہرین اور رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کی مالی خود کفالت کے لیے فوری طور پر جامع آپریشنل اصلاحات اور اخراجات میں بڑی کمی کرنا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔