آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں اور امریکی خلیجی خطے میں سمندری طوفان کے باعث خام تیل کی پیداوار متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی کے خدشات اس وقت شدید ہو گئے، جب آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، جس کے ساتھ ہی خلیج امریکہ کی جانب بڑھنے والی سمندری طوفانی سرگرمیوں کے باعث امریکہ میں تیل کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ اور برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں بالترتیب 3.6 فیصد اور 4.1 فیصد کے اضافے پر بند ہوئیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت صبح کے وقت بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی تھی، تاہم بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے قیمتوں میں عارضی کمی پیدا کر دی، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت جاری ہے اور امریکہ مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے سامنے آتے ہی برینٹ خام تیل کی قیمت گر کر 103 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی، تاہم دن کا کھیل ختم ہونے سے پہلے قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا۔






