تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

تنخواہ دار طبقے نے تین ماہ میں 144 ارب روپے ٹیکس ادا کردیا، رئیل اسٹیٹ کی وصولیوں میں کمی

پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادائیگی کے حوالے سے نمایاں حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تین ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے مجموعی طور پر وصول ہونے والے ٹیکس سے کہیں زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ٹیکس وصولیوں میں 38 فیصد کمی ہوئی اور یہ رقم 35.2 ارب روپے رہی۔ دوسری جانب ہول سیل اور ریٹیل کے شعبوں سے ٹیکس وصولیوں کی مجموعی رقم 18.4 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

تفصیلات میں تھوک فروشوں سے 6.2 ارب روپے اور ریٹیلرز سے 11.3 ارب روپے وصول ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم ان دونوں اعداد کا مجموعہ 17.5 ارب روپے بنتا ہے، اس لیے مجموعی رقم اور شعبہ وار تفصیلات میں فرق کی وضاحت ضروری ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران آئی ایم ایف پروگرام سے منسلک مالیاتی اقدامات کے بعد تنخواہ دار طبقے سے سالانہ انکم ٹیکس وصولی 391 ارب روپے سے بڑھ کر 629 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے نے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں ملازمت پیشہ افراد کے حصے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

حکومتی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 52 ارب روپے کا ریلیف دینے اور ٹیکس کی شرح میں بعض سلیبز کے لیے تین فیصد تک کمی کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم ٹیکس کا حقیقی بوجھ انفرادی آمدن، قابلِ ٹیکس رقم اور متعلقہ سلیب کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

یہ اعداد و شمار ٹیکس نظام میں مختلف شعبوں کے درمیان وصولیوں کے فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔ تنخواہ دار افراد کی جانب سے ٹیکس کی بڑی ادائیگی کے تناظر میں دیگر شعبوں کی ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کا معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔