عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی محدود رکھنے اور اسے بتدریج ختم کرنے کی پالیسی پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فنڈ کے مطابق ایندھن پر ریلیف کا دائرہ وسیع کرنے کے بجائے اسے ضرورت مند اور مستحق افراد تک محدود رکھنا چاہیے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر کی پانچویں قسط اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت 210 ملین ڈالر کی چوتھی قسط کی منظوری کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان مالیاتی سہولتوں کے ساتھ معاشی اصلاحات اور سرکاری اخراجات کے نظم و ضبط پر بھی زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی کی پیداوار کی لاگت کم کرنے، وصولیوں میں بہتری اور گیس کے شعبے میں نقصانات پر قابو پانے کی ضرورت اجاگر کی۔ اس کا مقصد توانائی کے نظام پر مالی دباؤ کم کرنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
تعلیم اور صحت پر سرکاری اخراجات بھی زیرِ بحث رہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان شعبوں پر مجموعی سرکاری اخراجات معیشت کے حجم کے تناسب سے مالی سال 2025 میں 2.2 فیصد اور مالی سال 2026 میں 2.5 فیصد بتائے گئے ہیں، جبکہ مالی سال 2027 کے لیے 2.8 فیصد تک پہنچانے کی ضرورت کا ذکر کیا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر ایندھن پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کی ہدایات اور حکومتی اسکیم کے درمیان بنیادی نکتہ یہ ہے کہ محدود مالی وسائل میں ریلیف ان افراد تک پہنچایا جائے جنہیں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ سبسڈی کے مالی اثرات اور سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنا بھی اہم ہوگا۔






