وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پارلیمانی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی وصولی فی لیٹر 80 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے ایندھن کی قیمتوں اور عوامی مشکلات کا معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم لیوی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن کا حصہ ہے اور اس کی وصولی کے مالیاتی اہداف کو تبدیل کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کی رضامندی سے متعلق شرائط بھی اہم ہیں۔ اس معاملے میں حکومت کو محصولات کے اہداف اور عوام کو ریلیف دینے کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا عمل شفاف رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک کی پانچ میں سے چار ریفائنریز کے یورو فائیو معیار کے ایندھن سے متعلق معاہدوں کا ذکر کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایندھن کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب پیش رفت ہے۔
اجلاس میں ایندھن کی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل پر بھی بات ہوئی۔ وزیر کے مطابق گیس کی دستیابی کو کھانے کے اوقات میں یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ ایندھن کی سپلائی چین کو ڈیجیٹل نظام کے تحت لانے کا کام بھی جاری ہے۔
قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) متعلقہ طریقہ کار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔ اس تناظر میں حکومت، ریگولیٹرز اور سپلائی چین سے وابستہ اداروں کے کردار کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
پیٹرولیم لیوی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی کے حالات کا براہِ راست تعلق عوام کے ایندھن کے اخراجات سے ہے۔ ایسے میں قیمتوں کے تعین، ٹیکسوں اور لیوی کی تفصیلات واضح انداز میں عوام تک پہنچانا اہمیت رکھتا ہے۔






