تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

پنجاب میں گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی، اب 15 نومبر تک مہلت

پنجاب حکومت نے نجی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق قواعد پر عمل درآمد کے لیے دی گئی مہلت میں توسیع کردی ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق گاڑی مالکان کے لیے نئی آخری تاریخ 15 نومبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل 15 اکتوبر تک عمل مکمل کرنے کی ہدایت تھی۔

نئے انتظام کے تحت ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کو تیاری کے پہلے پانچ سال تک فٹنس سرٹیفکیٹ سے استثنا حاصل ہوگا۔ اسی طرح 1001 سے 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پہلے چھ سال اور 2000 سی سی سے زیادہ گنجائش والی گاڑیوں کے لیے پہلے سات سال تک استثنا کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن سے منسوب کی گئی ہے۔ اس کا اطلاق متعلقہ گاڑیوں کی انجن گنجائش اور تیاری کے سال کے مطابق ہوگا، اس لیے گاڑی مالکان کو اپنے کاغذات اور متعلقہ قواعد کی تفصیلات دیکھنا ضروری ہے۔

جن گاڑیوں کو مقررہ استثنا حاصل نہیں ہوگا، ان کے مالکان کو 15 نومبر تک متعلقہ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔ مقررہ مدت کے بعد قواعد پر عمل نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔

گاڑی مالکان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی گاڑی کی عمر، انجن گنجائش اور متعلقہ فٹنس شرائط کی تصدیق کرلیں۔ اس سے آخری وقت میں رش اور ممکنہ قانونی مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔