اسلام آباد: پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کی تیاری شروع کردی گئی ہے، جس کے تحت کراس سبسڈی اور موجودہ سلیب نظام ختم کرکے مالی امداد صرف مستحق صارفین تک محدود کرنے کی تجویز پر کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی اور گیس کی سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنانے کے لیے مستحق صارفین کی سماجی و اقتصادی رجسٹری تیار کی جارہی ہے۔ اس رجسٹری کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ کن صارفین کو حکومتی سبسڈی کا اہل قرار دیا جائے۔
پاور ڈویژن نے ورلڈ بینک کے تعاون سے مستحق صارفین کی رجسٹری پر کام شروع کردیا ہے اور صارفین کی رجسٹریشن نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ رجسٹری کی تیاری کے بعد صارفین کے فراہم کردہ کوائف کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
حکام کے مطابق ڈیٹا کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد نئی رجسٹری کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مستحق خاندانوں کی شناخت اور بجلی و گیس کی سبسڈی کو زیادہ مؤثر انداز میں ہدف بنانا ہے۔
بجلی کے شعبے میں جنوری 2027 تک ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سبسڈی کا نظام صارفین کے مخصوص گروپس کے بجائے سماجی و اقتصادی حیثیت سے منسلک کرنے کی جانب منتقل کیا جائے گا۔
گیس صارفین کو یکم جولائی 2027 سے سماجی و اقتصادی رجسٹری کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔ نئی رجسٹری کے ذریعے صارفین کی مالی اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈی کے لیے اہلیت کا تعین کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سبسڈی کے نظام میں تبدیلی کا مقصد توانائی کے شعبے میں مالی بوجھ کم کرنا اور غیر ہدفی سبسڈی کے خاتمے کے ذریعے سرکاری وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانا ہے۔ اس سے توانائی کے شعبے میں موجود گردشی قرضے کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ان میں اصلاحات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے کے لیے تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور دیگر اصلاحات کا عمل تیز کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت بجلی اور گیس کی سبسڈی عمومی سلیب یا کراس سبسڈی کے بجائے مستحق صارفین کی سماجی و اقتصادی حیثیت سے منسلک ہونے کا امکان ہے، تاہم اس نظام کی حتمی تفصیلات اور عملی طریقہ کار حکومت کی جانب سے مزید وضاحت کے بعد سامنے آئے گا۔






