کراچی میں آٹے کی قیمتیں تمام حدیں پار کرتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، چکی کا آٹا 200 روپے فی کلو تک بک رہا ہے۔
کراچی میں شہریوں کے لیے آٹے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور ہول سیل مارکیٹ میں فی کلو آٹا 161 سے 162 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
یہ قیمتیں کمشنر کراچی کے مقرر کردہ سرکاری نرخوں سے فی کلو 40 روپے زیادہ ہیں۔ کمشنر کراچی نے آخری بار 9 جولائی 2026 کو آٹے کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے مطابق فی کلو آٹے کی سرکاری قیمت 122 روپے مقرر کی گئی تھی۔
اس وقت ہول سیل مارکیٹ میں ڈھائی نمبر آٹے کی 50 کلو والی بوری 8 ہزار 50 روپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ 10 کلو آٹے کا تھیلا ایک ہزار 620 روپے کا ہو چکا ہے۔ 50 کلو فائن آٹے کی بوری 8 ہزار روپے میں مل رہی ہے، جس سے فائن آٹا کی فی کلو قیمت 176 روپے تک جا پہنچی ہے۔
کمشنر کراچی کے نوٹیفکیشن کے مطابق فائن آٹے کی سرکاری قیمت 132 روپے فی کلو ہے، یعنی ہول سیل مارکیٹ میں فائن آٹا فی کلو 44 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔
دوسری طرف عوام کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا چکی کا آٹا مارکیٹ میں 190 سے 200 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، کمشنر کراچی کے نرخ نامے کے مطابق چکی کے آٹے کی فی کلو قیمت 145 روپے ہونی چاہیے تھی، یوں مارکیٹ میں چکی کے آٹے کی قیمت میں فی کلو 55 روپے کا بھاری اضافہ ہو چکا ہے۔
ہول سیل مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ فلور ملز مالکان کی جانب سے آٹا سرکاری قیمتوں پر فراہم ہی نہیں کیا جا رہا اور کمشنر کراچی صرف ہول سیل مارکیٹ کے چھوٹے دوکانداروں پر جرمانے کر رہے ہیں جبکہ فلور ملز مالکان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔






