لاہور میں بجلی کے صارفین کے بلوں میں مبینہ اوور بلنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے بعض صارفین نے شکایت کی ہے کہ اے ایم آئی اسمارٹ میٹرز کی ریڈنگ اور بجلی کے بلوں میں درج یونٹس ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بھاری بل وصول کرنے والے صارفین کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض اسمارٹ میٹرز کی اصل ریڈنگ کے مقابلے میں بلوں پر زیادہ یونٹس درج کیے گئے۔ اس فرق کی وجہ سے صارفین کو اضافی رقم ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ تاہم، ان شکایات کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ میٹرز، بلنگ ریکارڈ اور دیگر شواہد کی جانچ ضروری ہے۔
اسمارٹ میٹرز کی ریڈنگ اور بلوں میں فرق کیوں سامنے آیا؟
اطلاعات کے مطابق لیسکو کے بعض اے ایم آئی اسمارٹ میٹرز کے کمیونیکیشن سسٹم کو مبینہ طور پر بلاک یا میوٹ کیا گیا۔ اس کے بعد بلنگ کے عمل میں ایسی تبدیلیاں کیے جانے کا الزام سامنے آیا جن کے نتیجے میں بل پر درج میٹر ریڈنگ اور بل کے ساتھ موجود میٹر کی تصویر میں فرق دیکھا گیا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس فرق کے باعث بعض صارفین کے بلوں میں اضافی یونٹس شامل ہوئے۔ اگر بل پر درج یونٹس میٹر کی اصل ریڈنگ سے زیادہ ہوں تو صارف کو معمول سے زیادہ رقم ادا کرنا پڑسکتی ہے۔
تاہم، صرف ریڈنگ میں فرق سامنے آنے سے ہر معاملے میں اوور بلنگ ثابت نہیں ہوتی۔ بلنگ کی مدت، گزشتہ ریڈنگ، میٹر کی تصویر اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو دیکھنا ضروری ہے۔ اس لیے ہر شکایت کی الگ جانچ سے ہی اصل صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔
لیسکو کے لائن لاسز کا معاملہ بھی زیر بحث
اس معاملے میں لیسکو کے لائن لاسز کے اہداف کا ذکر بھی کیا جارہا ہے۔ رپورٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ لائن لاسز کو مقررہ حد میں رکھنے کے لیے بلنگ میں ردوبدل کیا گیا۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق یا کسی حتمی تحقیقات کے نتائج سامنے آنا ضروری ہیں۔
بجلی کے بھاری بل پہلے ہی بہت سے صارفین کے لیے مالی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی صارف کے بل میں غلطی سے اضافی یونٹس شامل ہوجائیں تو اس پر مزید بوجھ پڑسکتا ہے۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ بلنگ کے نظام کو شفاف بنایا جائے اور شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔
پنجاب اسمبلی میں بھی معاملہ اٹھا دیا گیا
رپورٹ کے مطابق بجلی کے بلوں میں مبینہ اوور بلنگ کا معاملہ پنجاب اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا۔ اس سلسلے میں اسمبلی اسپیکر نے لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد رمضان بٹ کو طلب کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں صارفین کی جانب سے سامنے آنے والی شکایات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔
اس معاملے میں متعلقہ حکام کی وضاحت اور بلنگ ریکارڈ کی جانچ اہم سمجھی جارہی ہے۔ اگر کسی صارف سے غلط یونٹس کے مطابق رقم وصول کی گئی ہے تو اس کی درستگی اور ممکنہ اضافی وصولی کی واپسی کے لیے متعلقہ ادارے کو کارروائی کرنا ہوگی۔
اوور بلنگ کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں ہوچکی ہیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ اس دوران لیسکو کے لائن لاسز کا تناسب تقریباً 15 فیصد تک پہنچنے کا ذکر بھی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد اب دوبارہ اوور بلنگ کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ تاہم، موجودہ شکایات اور سابقہ کارروائیوں کے درمیان تعلق کی تصدیق کے لیے متعلقہ اداروں کا ریکارڈ اور سرکاری مؤقف ضروری ہے۔
صارفین اپنے بجلی کے بل میں یونٹس کیسے چیک کریں؟
لیسکو کے صارفین کو چاہیے کہ بجلی کا بل موصول ہونے پر اس پر درج یونٹس اور میٹر کی موجودہ ریڈنگ کا موازنہ کریں۔ اگر بل کے ساتھ میٹر کی تصویر موجود ہو تو اس پر درج ریڈنگ بھی غور سے دیکھیں۔ اس کے علاوہ موجودہ بل کا گزشتہ ماہ کے بل سے موازنہ کرنے سے بھی غیر معمولی فرق کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔
اگر بل میں درج یونٹس اور میٹر کی ریڈنگ میں واضح فرق نظر آئے تو صارفین لیسکو کے متعلقہ دفتر یا سرکاری شکایتی نظام سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ شکایت کے ساتھ بجلی کا بل، میٹر کی واضح تصویر اور متعلقہ ریڈنگ فراہم کرنا مفید ہوگا۔ صارفین کو شکایت کا ریکارڈ بھی اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہیے۔
مبینہ اوور بلنگ کے معاملے میں حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے شکایات کی جانچ اور درست بلنگ کو یقینی بنانے سے صارفین کے خدشات دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔






