تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

حوثی حملوں کے باوجود عالمی منڈی کو تیل کی فراہمی یقینی بنائیں گے، سعودی عرب

عالمی منڈی

سعودی وزیر توانائی نے واضح کیا ہے کہ تمام تر چیلنجز اور حوثیوں کی جانب سے ایئرپورٹس پر حملوں کے باوجود عالمی منڈی کو تیل کی مستحکم فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود نے ریاض میں منعقدہ 17ویں انٹرنیشنل انرجی فورم کی وزارتی بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ہر قسم کے حالات میں تیل کی بلاتعطل فراہمی کے اپنے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر بحران میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ ہے۔

وزیر توانائی نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی دور اندیشی کا ثبوت ہے، جو بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تیل فراہم کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس سے خلیجی خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود توانائی کے نظام کو محفوظ اور فعال رکھنے میں مدد ملتی ہے۔