سرد موسم کی آمد سے پہلے ہی گیس کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھنے لگے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت نے آئندہ موسم سرما میں ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔
منصوبہ بندی کا مقصد گھریلو صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ بجلی کی پیداوار اور صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کے دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ہے۔
حکام کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کی پیداوار اور صنعتی شعبے کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ گھریلو سطح پر مقامی گیس کے استعمال کے ساتھ متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد محدود وسائل کو مختلف شعبوں کی ضروریات کے مطابق استعمال کرنا ہے۔
گیس کی ترسیل برقرار رکھنے کے لیے شمالی علاقوں میں موجود گیس ذخائر سے بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
اس کے علاوہ پانی گرم کرنے اور گھروں کو گرم رکھنے کے متبادل نظام متعارف کرانے کے لیے بینک فنانسنگ کی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ صارفین کے پاس گیس کے علاوہ دوسرے ذرائع استعمال کرنے کے امکانات موجود ہوں۔
حکومت دسمبر سے فروری کے دوران گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن نے کم از کم 22 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ظاہر کی ہے، تاہم توانائی ٹاسک فورس دستیاب وسائل اور علاقائی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 سے 12 کارگوز کے حصول پر غور کر رہی ہے۔
ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گیس کی متوقع طلب اور درآمدی انتظامات کے درمیان فرق کو پورا کرنا حکومت کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔
ایل این جی کی دستیابی، عالمی منڈی کی قیمتیں، درآمدی معاہدے اور بروقت ترسیل اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ موسم سرما میں گیس کی فراہمی کے لیے کتنے وسائل دستیاب ہوں گے۔
توانائی کے شعبے میں بروقت منصوبہ بندی کو اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ سردیوں میں گھریلو صارفین کی گیس کی طلب بڑھ سکتی ہے۔ اگر درآمدی انتظامات اور مقامی ذخائر سے فراہمی کے اقدامات وقت پر مکمل ہوں تو قلت کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، صارفین کو حقیقی سہولت کی فراہمی کا انحصار دستیاب گیس، طلب اور تقسیم کے نظام پر ہوگا۔
متبادل توانائی ذرائع اور پانی گرم کرنے کے مؤثر نظام کے استعمال سے بھی گیس پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت کے زیر غور اقدامات کی حتمی صورت اور درآمدی منصوبے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ موسم سرما میں گیس کی ضروریات کس حد تک پوری کی جاسکیں گی۔






