تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

روسی ڈیزل کی سپلائی بڑھنے کی خبروں سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ

ڈیزل

سعودی عرب میں حالیہ حملوں اور روسی ڈیزل کی سپلائی بڑھنے کے امکانات کی خبروں کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت گراوٹ دیکھنے میں ملی جب تاجروں اور سرمایہ کاروں نے سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی وجہ سے سپلائی میں خلل کے خطرات کا مقابلہ روس کی جانب سے ڈیزل کی متوقع اضافی برآمدات کے ساتھ کیا۔

برینٹ کُروڈ کے سودے 62 سینٹس کی کمی کے ساتھ 106 اعشاریہ صفر 4 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ بھی 46 سینٹس کم ہو کر 93 اعشاریہ 27 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔

یہ کمی پیر کے اس سیشن کے بعد سامنے آئی ہے جب برینٹ خام تیل کی قیمت 106 اعشاریہ 65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو پندرہ ستمبر کے بعد سے بلند ترین سطح تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اس وقت مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور روسی توانائی کی پالیسیوں کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔