عالمی مالیاتی فنڈ نے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے 2026 کے معاشی ترقی کے تخمینے میں بڑی گراوٹ کرتے ہوئے منفی معاشی سنکچن کی پیشگوئی کی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی معیشت میں صفر اعشاریہ تین فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ چھ ماہ قبل ایک اعشاریہ نو فیصد مثبت ترقی کی پیشگوئی کی گئی تھی۔
ادارے نے اس معاشی تنزلی کی بنیادی وجہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی طویل بندش اور تیل کی پیداوار، ترسیل اور برآمدات میں ہونے والے شدید خلل کو قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال عراق، کویت، قطر اور بحرین کی معیشتوں میں ڈبل ڈیجٹ کی گراوٹ دیکھنے میں آ سکتی ہے، بشرطیکہ 2027 میں پیداوار اور تجارتی راستے بحال ہوں تو ان ممالک میں شاندار بحالی کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ ایران کی معیشت میں سات اعشاریہ چھ فیصد، سعودی عرب کی جی ڈی پی میں تین اعشاریہ تین فیصد اور متحدہ عرب امارات کی معیشت میں تین اعشاریہ نو فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ خلیجی ممالک میں صرف عمان واحد ملک ہے، جو اس سال دو اعشاریہ چار فیصد کی مثبت معاشی ترقی ریکارڈ کر سکتا ہے۔






