وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قرضوں کی مالیت 2028 تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت کردی۔
کاروباری افراد کو قرضوں تک آسان رسائی دینے اور پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) سے متعلق اجلاس میں چھوٹے کاروبار کے فروغ، کاروباری افراد کو بااختیار بنانے اور متعلقہ ادارے میں اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔
کاروباری افراد کو قرضوں تک رسائی
شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سمیڈا میں اصلاحات کا بنیادی مقصد کاروباری افراد کو بااختیار بنانا اور ان کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
قرضوں کی سہولت کو وسعت دینے کے لیے ایسا جامع طریقۂ کار تیار کرنے کی ہدایت کی گئی جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ افراد کاروبار شروع کرنے یا موجودہ کاروبار کو وسعت دینے کے لیے مالی معاونت حاصل کرسکیں۔
پسماندہ علاقوں میں کاروباری مواقع
وزیراعظم نے پسماندہ علاقوں کے عوام کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ ان کے نزدیک مقامی سطح پر روزگار اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کی رہنمائی کے لیے آگاہی مہم چلانے اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے فزیبلٹی اسٹڈیز تیار کرانے کی ہدایت بھی کی گئی، تاکہ نئے کاروبار شروع کرنے سے پہلے ان کی معاشی افادیت اور کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔
حکومتی اقدامات کا مقصد چھوٹے کاروبار کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ پسماندہ علاقوں میں ترقی، روزگار اور خوشحالی کے مواقع بڑھانا ہے۔






