چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے تنخواہ دار طبقے کو ایڈوانس انکم ٹیکس کے نوٹسز جاری ہونے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ملازمین کی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، صرف تنخواہ پر انحصار کرنے والے افراد کو ایڈوانس انکم ٹیکس کے نوٹسز سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ تنخواہ کے علاوہ دیگر ذرائع سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر قابل اطلاق ٹیکس کے قواعد برقرار رہ سکتے ہیں۔
تنخواہ دار ملازمین کے لیے ممکنہ ریلیف
ملک بھر میں تنخواہ دار طبقے کو سہ ماہی ایڈوانس انکم ٹیکس کے نوٹسز موصول ہونے کی اطلاعات کے بعد اس معاملے پر توجہ دی گئی ہے۔ ایف بی آر کی سطح پر ایسے ملازمین کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کی آمدن کا واحد ذریعہ تنخواہ ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق، تنخواہ کے علاوہ دیگر ذرائع سے آمدن رکھنے والے افراد سے متعلق ٹیکس کا معاملہ الگ بنیادوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ان افراد پر قابل اطلاق ایڈجسٹ ایبل ٹیکس کا تعین متعلقہ قواعد اور ان کی آمدن کی نوعیت کے مطابق ہوگا۔
اضافی ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ
تنخواہ دار طبقے سے وصول کیے گئے اضافی ایڈوانس انکم ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے، تاکہ ملازمین پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جاسکے۔
تاہم، نوٹسز کے اجرا، استثنا اور اضافی وصولیوں کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کے حتمی طریقۂ کار سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ متعلقہ ملازمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ٹیکس صورت حال اور ایف بی آر کی تازہ ہدایات کی تصدیق کریں۔






