تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

وزیرِ خزانہ کی بینکاک میں عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معاشی پیش رفت پر بریفنگ

وزیرِ خزانہ

وفاقی وزیرِ خزانہ نے بینکاک میں عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بنیادی مالیاتی سرپلس اور 22 سال کی کم ترین سطح پر آنے والے مالیاتی خسارے کی معاشی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بینکاک میں منعقدہ سٹی میکرو فورم اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے خودمختار سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس میں شرکت کی۔

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور اصلاحاتی ترجیحات پر بریفنگ دی۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان مسلسل 3 سال سے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کر رہا ہے، جبکہ ملک کا مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جو ایک اہم معاشی پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے اور رواں مالی سال معاشی شرحِ نمو 4 فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی امید ہے۔

وزیرِ خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور عالمی مارکیٹ سے مالی وسائل حاصل کرنے کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پانڈا بانڈز، سکوک اور روپے کی مالیت لیکن ڈالر میں ادائیگی والے عالمی بانڈز کے اجرا پر غور کر رہا ہے۔ حکومت کی ترجیح قرض لینے کی لاگت کم کرنا، قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا اور ری فنانسنگ کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس نیٹ میں توسیع، مالیاتی نظم و ضبط اور صوبوں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے توانائی کے چیلنجز پر نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ موجودہ بجٹ میں کمزور طبقات کو ریلیف، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات اور امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی پر کام کر رہی ہے۔