تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

گھر خریدنے کے لیے قرض لینا آسان، اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کے قواعد نرم کردیے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس کے حصول کے لیے جائیداد کی ملکیتی دستاویزات سے متعلق شرائط میں نرمی کردی ہے، جس سے گھر، اپارٹمنٹ یا پلاٹ خریدنے کے لیے قرض لینے والے شہریوں کو سہولت مل سکے گی۔

نئے ضوابط کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے پر 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے جائیداد کے سرکاری ریکارڈ میں بینک کے حق میں لین درج کرنے کا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکے گا۔

اسٹیٹ بینک کے نئے قواعد کے مطابق بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو ہاؤسنگ فنانس کے لیے مقررہ فہرست کے مطابق صارفین سے ملکیتی دستاویزات حاصل کرنا ہوں گی۔ دستاویزات وصول کرنے کے بعد صارف کو دستخط شدہ رسید فراہم کرنا بھی لازمی ہوگا، جس میں موصول ہونے والی تمام دستاویزات کی تفصیلات درج ہوں گی۔

50 لاکھ روپے تک کے قرض کے لیے متبادل طریقہ

نئے ضوابط کے تحت ہاؤسنگ فنانس حاصل کرنے کے لیے گھر، اپارٹمنٹ یا پلاٹ کو قرض فراہم کرنے والے ادارے کے حق میں رہن رکھنا ہوگا۔ تاہم 50 لاکھ روپے تک کے قرض کے معاملے میں مقررہ شرائط کے مطابق جائیداد کے سرکاری ریکارڈ میں بینک کے حق میں لین درج کرنے کا متبادل طریقہ بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

اس تبدیلی سے ان صارفین کو سہولت ملنے کی توقع ہے جو جائیداد کی ملکیتی دستاویزات کی تکمیل کے مراحل میں ہاؤسنگ فنانس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس سہولت کا اطلاق اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ شرائط اور متعلقہ ادارے کے طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔

سولر اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی سہولت

اسٹیٹ بینک نے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی فنانسنگ سے متعلق قواعد میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔ نئے ضوابط کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے پر ضمانت کے بغیر فنانسنگ حاصل کی جا سکے گی، جبکہ سولر سمیت نصب شدہ آلات کو رہن رکھ کر بھی مالی معاونت حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

ان اقدامات کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل تک رسائی آسان بنانا ہے۔ اس سہولت سے ایسے صارفین اور منصوبوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو سولر توانائی سمیت دیگر قابلِ تجدید ذرائع کے استعمال کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ بھی قابلِ قبول ہوگا

نئے قواعد کے تحت گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بھی ہاؤسنگ فنانس حاصل کیا جا سکے گا۔ پنجاب کا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور دیگر صوبوں میں اس کے مساوی سرٹیفکیٹس قابلِ قبول ہوں گے۔

یہ سرٹیفکیٹ جائیداد کی ملکیت، قبضے اور حقِ ملکیت کی تصدیق کرے گا۔ اس کی بنیاد پر اضافی تاریخی یا علیحدہ ملکیتی دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بشرطیکہ متعلقہ سرٹیفکیٹ مقررہ ضوابط پر پورا اترتا ہو۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو نئے ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ان تبدیلیوں سے ہاؤسنگ فنانس اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے دستاویزی تقاضوں میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔