پاکستان کو رواں ماہ اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو باضابطہ طور پر موصول ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود آنے والے موسم سرما کے دوران ملک میں گیس کا شدید بحران برقرار رہنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماہ اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو کامیابی کے ساتھ موصول ہو گیا ہے۔
قطری حکومت کی جانب سے بھیجا جانے والا ایل این جی بردار جہاز العریش پاکستان کے ساحل پر پہنچ کر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر بحفاظت لنگر انداز ہو چکا ہے۔
ٹرمینل پر لنگر انداز ہونے کے بعد العریش جہاز سے ایل این جی کو ری گیسفیکیشن کے عمل کے ذریعے دوبارہ قدرتی گیس کی شکل میں تبدیل کرنے اور سوئی گیس کے قومی پائپ لائن نیٹ ورک میں شامل کرنے کا عمل انتہائی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔
تاہم، اس ایک کارگو کے موصول ہونے کے باوجود متعلقہ حکام اور انرجی سیکٹر کے ذرائع نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ رسد آنے والے سردیوں کے مہینوں کے لیے ناکافی ثابت ہوگی اور موسم سرما میں ملک بھر میں گیس کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ اب بھی برقرار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال موسم سرما کے پورے موسم کے دوران ملک میں گیس کی مجموعی صنعتی و گھریلو ضرورت کو بلا تعطل پورا کرنے کے لیے ایل این جی کے کم از کم 24 کارگوز کی اشد ضرورت ہوگی۔
سردیوں کے سخت ترین ایام میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (سوئی ناردرن) کی یومیہ گیس کی طلب جو عام دنوں میں 550 ملین مکعب فٹ ہوتی ہے، بڑھ کر 1550 ملین مکعب فٹ تک پہنچنے کا مکمل امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (سوئی سدرن) کی یومیہ گیس کی طلب بھی 300 ملین مکعب فٹ سے بڑھ کر 500 ملین مکعب فٹ تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
گیس کی طلب اور رسد کے اس بہت بڑے فرق اور بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر جو حکمت عملی زیر غور ہے اس کے مطابق موسم سرما میں گھریلو صارفین کو چولہے جلانے کے لیے گیس کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے صنعتی صارفین کو کی جانے والی گیس کی فراہمی کو شدید ترین پیمانے پر متاثر یا معطل کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جن اہم اور حساس صنعتی شعبوں کو گیس کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان میں ملک کی برآمدی صنعتیں، غیر برآمدی پیداوراتی یونٹس، کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے اسٹیشنز اور سیمنٹ کے بڑے کارخانے شامل ہیں، جن کی پیداوار سردیوں میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔






