تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

بلوچستان کی تقدیر بدلنے کا مشن؛ سی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے بڑے منصوبے جاری

سی پیک مغربی روٹ

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مغربی روٹ کے تحت بلوچستان میں شاہراہوں کے بڑے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔

فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 718 کلومیٹر طویل شاہراہوں کی تعمیر و ترقی کے لیے تقریباً 310 ارب روپے کے منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ مختلف منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں سے 163.17 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔

ان منصوبوں میں خضدار، کچلاک شاہراہ کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ 330 کلومیٹر طویل اس منصوبے کے لیے 82.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس شاہراہ کی تعمیر سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کے درمیان زمینی رابطوں کو بہتر بنانے اور سفر و سامان کی نقل و حمل میں سہولت پیدا کرنے کی توقع ہے۔

ہوشاب، آواران، نال، بسیمہ، خضدار اور ژوب، کچلاک کے روٹس کے لیے مختص 83.2 ارب روپے میں سے 54.9 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔ اسی طرح بسیمہ اور خضدار کے اہم روٹ کے لیے مختص فنڈز کا 94 فیصد حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

بلوچستان میں سڑکوں کا بہتر نیٹ ورک صوبے کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بہتر رابطوں سے زرعی پیداوار، معدنی وسائل، مقامی کاروبار اور تجارتی سامان کو منڈیوں تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ طویل فاصلے طے کرنے والے مسافروں اور ٹرانسپورٹ کے لیے بھی سفری سہولتیں بہتر ہونے کی توقع ہے۔

سی پیک کے مغربی روٹ کو بلوچستان میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے جوڑا جاتا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر سے دور دراز علاقوں کو قومی شاہراہوں اور تجارتی مراکز سے منسلک کرنے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم ان فوائد کا انحصار منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار، دیکھ بھال اور مقامی معیشت کے ساتھ مؤثر روابط پر ہوگا۔

فراہم کردہ اعداد و شمار میں منصوبوں کے لیے مختص رقوم، جاری فنڈز اور بعض ترقیاتی کاموں پر اخراجات کی تفصیلات موجود ہیں، تاہم تمام منصوبوں کی موجودہ تکمیل کی شرح اور حتمی تکمیل کی تاریخوں کی تفصیل شامل نہیں۔ اس لیے بلوچستان میں جاری شاہراہوں کے منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تازہ سرکاری اپ ڈیٹس اہم ہوں گی۔