پاکستان کی ترسیلات زر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے تحت ستمبر 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.6 ارب ڈالر وطن بھیجے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 12.7 فیصد زیادہ ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران بھی ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ خرم شہزاد کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والی رقوم 14 فیصد اضافے کے ساتھ 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے وطن میں موجود خاندانوں کی مالی معاونت کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
ستمبر میں مختلف ممالک سے موصول ہونے والی ترسیلات میں سعودی عرب سرفہرست ذرائع میں شامل رہا، جہاں سے 899 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 749 ملین ڈالر جبکہ برطانیہ سے 515 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان رقوم سے گھرانوں کے روزمرہ اخراجات، تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ترسیلات زر ملک میں غیر ملکی کرنسی کی آمد کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔
ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے انتظام اور زرمبادلہ کی دستیابی کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم ملکی معیشت کی مجموعی صورت حال جانچنے کے لیے صرف ترسیلات زر کافی نہیں؛ برآمدات، درآمدات، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، مہنگائی اور روزگار کے اعداد و شمار بھی اہم ہیں۔
حکومت کی جانب سے کامیاب سفارتکاری اور معاشی اصلاحات کو ترسیلات زر میں اضافے سے جوڑا گیا ہے، تاہم فراہم کردہ اعداد و شمار بذات خود اس اضافے کی وجوہات کا تعین نہیں کرتے۔ ان وجوہات کو سمجھنے کے لیے ترسیلات کے ذرائع، شرح مبادلہ، بینکاری ذرائع کے استعمال اور بیرون ملک پاکستانیوں کی آمدنی سے متعلق تفصیلات کا جائزہ ضروری ہے۔






