وفاقی حکومت نے منقطع ہونے والے سوئی گیس کنکشن دوبارہ بحال کروانے والے صارفین کے لیے نئی شرائط عائد کردی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت اگر کسی صارف کا گیس کنکشن ایک سال سے زیادہ عرصے تک منقطع رہے تو اسے بحال کروانے کے بعد ایل این جی ٹیرف کے مطابق بل ادا کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی کے باعث ایسے صارفین کو پہلے والی سستی قدرتی گیس کے نرخوں پر بلنگ کی سہولت نہیں ملے گی۔
حکومتی پالیسی کے مطابق گیس کنکشن کی بحالی کے لیے ایل این جی ٹیرف سے متعلق شرائط گھریلو صارفین سمیت تمام متعلقہ صارفین پر لاگو ہوں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف گھریلو صارفین ہی نہیں بلکہ دیگر متعلقہ کیٹیگریز کے صارفین بھی اس پالیسی کے دائرے میں آئیں گے۔ جن افراد کے کنکشن طویل عرصے سے منقطع ہیں، انہیں دوبارہ گیس حاصل کرنے سے پہلے نئی شرائط کو سمجھنا ہوگا۔
پالیسی کے مطابق اگر کسی صارف کا سوئی گیس کنکشن ایک سال سے زائد عرصے تک بند رہتا ہے تو کنکشن کی بحالی کے بعد اس کی بلنگ ایل این جی ٹیرف کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس طرح صارف کو گیس کی فراہمی دوبارہ شروع ہونے کے باوجود پہلے سے لاگو قدرتی گیس کے نرخوں پر بل نہیں دیا جائے گا۔ اس تبدیلی سے ایسے صارفین کے ماہانہ گیس اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔
حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق صارفین مقررہ ری کنکشن فیس ادا کرکے اپنا منقطع گیس کنکشن بحال کروا سکتے ہیں۔ فیس کی ادائیگی اور متعلقہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد کنکشن دوبارہ فعال کیا جاسکے گا۔ تاہم، اگر کنکشن ایک سال سے زیادہ عرصے سے منقطع ہے تو اس کی بحالی کے بعد ایل این جی ٹیرف کے مطابق بلنگ ہوگی۔ اس لیے صارفین کو صرف کنکشن کی بحالی کی فیس ہی نہیں بلکہ آئندہ آنے والے بلوں کے ممکنہ اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
گیس کنکشن کی بحالی کے خواہشمند صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی متعلقہ گیس کمپنی سے کنکشن کی موجودہ حیثیت، واجبات، ری کنکشن فیس اور قابل اطلاق ٹیرف کی تصدیق کریں۔ اس سے انہیں معلوم ہوسکے گا کہ کنکشن بحال کروانے کے لیے کون سے مراحل مکمل کرنا ہوں گے اور گیس استعمال کرنے پر کس ٹیرف کے مطابق بل جاری کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت کنکشن منقطع رہنے کی مدت اہم ہوگئی ہے۔ جن صارفین کے کنکشن ایک سال سے زیادہ عرصے سے بند ہیں، انہیں دوبارہ گیس حاصل کرنے کے لیے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لہٰذا ایسے صارفین کو چاہیے کہ وہ بحالی کے لیے درخواست دینے سے پہلے متعلقہ کمپنی سے تمام شرائط واضح طور پر معلوم کرلیں تاکہ بعد میں بلنگ یا اخراجات کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔






