تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

عالمی بینک نے پاکستان کے ٹیکس اصلاحاتی پروگرام کو درمیانے درجے کا اطمینان بخش قرار دے دیا، اہم خطرات کی نشاندہی

عالمی بینک نے پاکستان کے ٹیکس اصلاحاتی پروگرام کی کارکردگی کو مجموعی طور پر درمیانے درجے کا اطمینان بخش قرار دیا ہے۔

 تاہم، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس پروگرام پر عمل درآمد کے دوران سیاسی، انتظامی اور حکومتی مسائل بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا ہدف ہے کہ جون 2030 تک ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 15 فیصد تک پہنچایا جائے۔

واشنگٹن میں قائم عالمی بینک نے پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلوسِو ڈیولپمنٹ پروگرام کا جائزہ لیا ہے۔ یہ پروگرام تقریباً 70 کروڑ ڈالر کے مالی معاونت کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک میں معاشی استحکام کو بہتر بنانا، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانا اور حکومت کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پروگرام پر عمل درآمد کے لیے مجموعی طور پر اطمینان بخش پیش رفت ہوئی ہے۔ زیادہ تر ایسے اہداف پر کام آگے بڑھا ہے جن کی تکمیل کے ساتھ مالی معاونت کی ادائیگی منسلک ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاحاتی عمل میں پیش رفت جاری ہے۔ تاہم، ادارے نے پروگرام کے لیے خطرات کی سطح کو نمایاں قرار دیا ہے۔

پاکستان کا ٹیکس ہدف کیا ہے؟

پاکستان نے ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے کے لیے ایک اہم ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے تحت ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب جون 2025 میں 12.3 فیصد سے بڑھا کر جون 2030 تک 15 فیصد کرنا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے حکومت کو ٹیکس نظام میں اصلاحات، وصولیوں میں بہتری اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ دینا ہوگی۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ اس ہدف کے حصول میں سیاسی اور حکومتی مسائل کے علاوہ کئی دوسرے خطرات بھی موجود ہیں۔ ان میں معاشی حالات، اداروں کی صلاحیت، مالی انتظام، متعلقہ شعبوں کی پالیسیاں اور ماحولیاتی و سماجی معیار سے متعلق مسائل شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق ان خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اصلاحات پر بروقت عمل نہ ہوا تو پروگرام کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت کو منصوبے پر مسلسل توجہ دینے اور اداروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس میں اہم عہدہ خالی

عالمی بینک نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس میں چیف اسٹیٹسٹیشن کی تقرری میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی ہے۔ یہ عہدہ 24 ستمبر 2026 سے خالی ہے۔ پروگرام کی شرائط کے مطابق اس عہدے پر عمل درآمد کے پورے عرصے کے دوران تقرری برقرار رہنا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ادارے کی گورننگ کونسل کے قیام میں بھی تاخیر کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ مسائل پروگرام کے انتظامی امور اور مقررہ شرائط کی تکمیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

حکومت اور عالمی بینک ان تاخیر کو دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ان مسائل کے باعث اصلاحاتی پروگرام کی رفتار متاثر نہ ہو اور مقررہ اہداف حاصل کرنے میں مزید رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

حکومت منصوبے کی سرگرمیوں اور اخراجات کی تقسیم میں تبدیلیوں کے بعد تکنیکی معاونت اور عمل درآمد کے انتظامات کو بھی فعال بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس عمل کا مقصد منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ہے۔

پنجاب کے ڈیجیٹل پروگرام کے لیے بھی خطرات کی نشاندہی

عالمی بینک نے پنجاب کے لیے 7 کروڑ ڈالر کے کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کا بھی جائزہ لیا ہے۔ یہ پروگرام جون 2031 تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد صوبے میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت کو وسعت دینا، ڈیجیٹل عوامی خدمات بہتر بنانا، مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری بڑھانا اور نقد کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا ہے۔

عالمی بینک نے اس پروگرام کے لیے خطرات کی سطح درمیانی سے نمایاں قرار دی ہے۔ تاہم، ادارے نے پنجاب حکومت کی جانب سے منصوبے کی حمایت کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو صوبائی حکومت کی منظوری مل چکی ہے۔ اب پروگرام کے اگلے مراحل میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانا، ڈیٹا کے انتظام کا فریم ورک تیار کرنا اور ذاتی معلومات کے تحفظ کی حکمت عملی مرتب کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ سائبر سیکیورٹی کی حکمت عملی پر بھی کام کیا جائے گا۔

ان اقدامات کا مقصد ڈیجیٹل نظام کو زیادہ محفوظ بنانا اور عوامی خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بہتر بنانا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے لین دین کے طریقوں کو آسان بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

عالمی بینک کا 70 کروڑ ڈالر کا پروگرام کیوں اہم ہے؟

پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلوسِو ڈیولپمنٹ پروگرام کی منظوری عالمی بینک کے بورڈ نے 19 دسمبر 2025 کو دی تھی۔ اس پروگرام کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کی حمایت کی جا رہی ہے۔

اس کا بنیادی مقصد ملک کے اندر ٹیکس اور دیگر سرکاری آمدن میں اضافہ کرنا، سرکاری اخراجات کو بہتر بنانا اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانا ہے۔ اس کے لیے ڈیٹا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔

عالمی بینک کی تازہ جانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام کے کئی اہداف پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن انتظامی اور سیاسی مسائل اب بھی اہم چیلنج ہیں۔ پاکستان کے لیے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اس پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جون 2030 تک ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 15 فیصد تک پہنچانے کے لیے مسلسل اصلاحات اور بروقت عمل درآمد ضروری ہوگا۔