پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری میں مقامی طلب بڑھنے کے باعث بحالی کے آثار سامنے آئے ہیں۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی مجموعی ڈسپیچز میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ستمبر کے دوران مجموعی ترسیلات سالانہ بنیاد پر 6 فیصد بڑھ گئیں۔ مقامی فروخت میں اضافے کے باوجود برآمدات میں کمی صنعت کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔
ستمبر میں سیمنٹ کی مجموعی ڈسپیچز 46 لاکھ 20 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں۔ اسی مہینے مقامی سیمنٹ فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا، جو ملک کے اندر طلب میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران مقامی ڈسپیچز 7.8 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کروڑ آٹھ لاکھ 50 ہزار ٹن رہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی مارکیٹ نے مجموعی ترسیلات میں اضافے کو سہارا دیا۔
تاہم برآمدات کی صورت حال مختلف رہی۔ پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی برآمدات 11.4 فیصد کم ہوکر 23 لاکھ ٹن رہ گئیں۔ اس کمی کے باعث مقامی فروخت میں اضافے کے باوجود بیرونی منڈیوں سے حاصل ہونے والی طلب کا کردار محدود رہا۔ سیمنٹ کی صنعت کے لیے مقامی اور بین الاقوامی فروخت کے درمیان توازن اہم ہے، کیونکہ برآمدات میں کمی پیداوار اور گنجائش کے استعمال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
علاقائی کارکردگی میں بھی فرق دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں شمالی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات صفر رہیں، جبکہ جنوبی خطے کی ترسیلات میں ستمبر کے دوران تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔ جنوبی خطے سے اسی مہینے آٹھ لاکھ 30 ہزار ٹن سیمنٹ برآمد کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے مختلف پیداواری خطوں میں برآمدی سرگرمی ایک جیسی نہیں رہی۔
صنعت نے ستمبر کے دوران اپنی پیداواری گنجائش کا تقریباً 66 فیصد استعمال کیا۔ پہلی سہ ماہی میں اوسط گنجائش کا استعمال تقریباً 60 فیصد رہا، جبکہ ستمبر میں شمالی خطے میں یہ شرح تقریباً 57 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ گنجائش کا مکمل استعمال نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ پیداوار کے مقابلے میں صنعت کے پاس مزید پیداوار کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کا عملی استعمال طلب، اخراجات اور فروخت کے امکانات سے وابستہ ہوگا۔
سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ بھی تعمیراتی شعبے کے لیے اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت سالانہ بنیاد پر 10 فیصد بڑھ کر 1,549 روپے ہوگئی۔ مقامی فروخت میں بہتری کے باوجود قیمتوں میں اضافے سے تعمیراتی منصوبوں کی لاگت پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر مقامی ڈسپیچز میں اضافہ صنعت کے لیے مثبت اشارہ ہے، لیکن برآمدات میں کمی اور پیداواری گنجائش کے محدود استعمال جیسے عوامل اہم رہیں گے۔ دستیاب اعداد و شمار سے بحالی کے ابتدائی آثار تو سامنے آتے ہیں، تاہم مستقل بہتری کا اندازہ لگانے کے لیے آئندہ مہینوں کی فروخت، برآمدات اور قیمتوں کے رجحانات بھی دیکھنا ہوں گے۔






