تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

پنجاب میں صنعتوں کے لیے 50 ارب روپے کی سولر سبسڈی کی تجویز تیار

پنجاب میں صنعتی شعبے کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے بڑے منصوبے کی تیاری جاری ہے، جس کے تحت صنعتی یونٹس میں سولر پاور سسٹم نصب کرنے کے لیے 50 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

مجوزہ منصوبے کا بنیادی مقصد صنعتوں کے بجلی کے اخراجات کم کرنا اور قومی گرڈ پر انحصار میں کمی لانا ہے۔ اس منصوبے سے صنعتی اسٹیٹس اور ایگرو پروسیسنگ پارکس میں پیداواری یونٹس قائم کرنے والے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ صنعتی یونٹس میں اپنی جگہ پر سولر سسٹم نصب کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

صنعتی ترقی کے لیے 100 ارب روپے کا پیکیج

صنعتی ترقی کے مجموعی پیکیج کے لیے 100 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ اس میں 50 ارب روپے صنعتی یونٹس کے لیے سولر سبسڈی کی مد میں رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ مزید 50 ارب روپے پلانٹس اور صنعتی آلات پر ڈیوٹی کی واپسی کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔

حکام کے مطابق سولر سبسڈی کے تحت فی یونٹ حد، مستحق صنعتی یونٹس کے لیے اہلیت کے معیار اور مالی معاونت فراہم کرنے کا طریقۂ کار طے کیا جا رہا ہے۔ ان شرائط کی حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے اہل سرمایہ کاروں کے بارے میں مزید وضاحت ہوسکے گی۔

مجوزہ اقدامات کے ذریعے پیداواری لاگت کم کرنے، صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور بجلی کے قومی نظام پر دباؤ گھٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم منصوبے کے حتمی نفاذ، درخواستوں کے طریقۂ کار اور سبسڈی کی تقسیم سے متعلق تفصیلات کی سرکاری اعلان کے بعد تصدیق ہوگی۔