تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

ایل پی جی سرکاری نرخ 279 روپے، مارکیٹ میں 480 روپے فی کلو تک فروخت! شہری مہنگائی کے ہاتھوں پریشان

ملک میں سوئی گیس کی کم پریشر اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کے دوران ایل پی جی کی قیمتیں بھی صارفین کے لیے اضافی بوجھ بن گئی ہیں۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق سرکاری طور پر اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مختلف پرچون مارکیٹوں میں یہ گیس 430 سے 480 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں، جس سے گھریلو صارفین کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔

سرکاری قیمت اور مارکیٹ ریٹ میں کتنا فرق ہے؟

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اوگرا نے اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی ہے، جبکہ پرچون مارکیٹ میں قیمت 430 سے 480 روپے فی کلو تک بتائی جارہی ہے۔

اس حساب سے صارفین کو فی کلو 151 سے 201 روپے تک اضافی رقم ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ اگر یہ نرخ کسی مارکیٹ میں برقرار ہیں تو وہاں ایل پی جی کی قیمت مقررہ سرکاری نرخ سے خاصی زیادہ ہے۔

یہ اعداد فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ مختلف شہروں میں حقیقی فروختی نرخ اور سرکاری قیمت کے اطلاق کی تصدیق متعلقہ مقامی مارکیٹ اور اوگرا کے تازہ نوٹیفکیشن سے کی جانی چاہیے۔

تفصیلقیمت
اکتوبر کے لیے بتایا گیا سرکاری نرخ279 روپے فی کلو
پرچون مارکیٹ میں بتائی گئی کم قیمت430 روپے فی کلو
پرچون مارکیٹ میں بتائی گئی زیادہ قیمت480 روپے فی کلو
فی کلو اضافی فرق151 سے 201 روپے

 

 

 

 

گھریلو سلنڈر بھی مہنگا، صارفین پر اضافی بوجھ

عرفان کھوکھر کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں ایل پی جی تقریباً 500 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت تقریباً 6 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔

انہوں نے پہاڑی علاقوں میں قیمتوں کے مزید بڑھنے کی نشاندہی کرتے ہوئے سلنڈر کی قیمت 7,200 روپے تک پہنچنے کا ذکر کیا۔ تاہم ان نرخوں کا اطلاق تمام علاقوں پر یکساں نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ مقامی دستیابی، ترسیل اور فروختی مقامات کے لحاظ سے قیمتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔

گھریلو صارفین کے لیے مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب سوئی گیس کا پریشر کم ہو یا گیس کی فراہمی محدود ہو۔ ایسی صورت میں کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی خریدنا پڑتی ہے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا حکومت سے مطالبہ

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے چیئرمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سرکاری سہولتوں اور دستیاب گیس ٹرمینلز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

ان کے مطابق ایس ایس جی سی کے ٹرمینل کو استعمال میں لانے اور ایل پی جی کی درآمد کے انتظامات بہتر بنانے سے رسد میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے صرف سرکاری نرخ مقرر کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ سپلائی چین، درآمدی دستیابی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور پرچون سطح پر نگرانی بھی اہم ہوتی ہے۔

سوئی گیس کی بندش نے متبادل ایندھن پر انحصار بڑھا دیا

ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کے کم پریشر اور لوڈشیڈنگ کے دوران ایل پی جی بہت سے گھرانوں کے لیے متبادل ایندھن کا ذریعہ بنتی ہے۔ ایسے حالات میں اس کی قیمت بڑھنے سے گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے، خصوصاً ان خاندانوں کا جن کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی سوئی گیس کے بل ادا کرتے ہیں، لیکن گیس کی مناسب فراہمی نہ ہونے پر انہیں اضافی رقم خرچ کرکے ایل پی جی بھی خریدنا پڑتی ہے۔

صارفین کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں کھانا پکانے جیسے بنیادی گھریلو کام کے لیے مہنگا ایندھن خریدنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کیسے ممکن ہوگا؟

ایل پی جی کی قیمتوں میں فرق ختم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے مارکیٹ کی نگرانی، فروخت کنندگان کے نرخوں کی جانچ اور شکایات پر کارروائی اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔

اس کے ساتھ گیس کی رسد میں تسلسل، درآمدی انتظامات اور تقسیم کے نظام میں بہتری بھی ضروری ہے۔ اگر سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی رقم کے درمیان فرق برقرار رہتا ہے تو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر نگرانی اور شفاف معلومات کی ضرورت ہوگی۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی مقررہ سرکاری نرخوں پر دستیاب بنائی جائے تاکہ سوئی گیس کی کمی کے دوران انہیں مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔