تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

اسٹیٹ بینک کا چیک کلیئرنگ نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ، نئی سہولت کا آغاز 15 اکتوبر سے

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں چیک کلیئرنگ اور بینکوں کے درمیان ادائیگیوں کے نظام کو جدید بنانے کے لیے پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم (PECS) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت چیکس کی اصل دستاویزات کو مختلف بینکوں کے درمیان جسمانی طور پر منتقل کرنے کے بجائے ان کی الیکٹرانک تصاویر اور متعلقہ معلومات استعمال کی جائیں گی۔

اسٹیٹ بینک کے منصوبے کے مطابق نئے نظام کا ابتدائی مرحلہ 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہونا ہے، جبکہ ملک بھر میں اس کے مکمل نفاذ کا ہدف 30 اپریل 2027 مقرر کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد چیک کلیئرنگ کے عمل کو تیز، مؤثر اور جدید بنانا ہے۔

نئے نظام میں چیک ٹرنکیشن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ اس طریقہ کار میں چیک جمع کرنے والا بینک اصل چیک کی الیکٹرانک تصویر اور متعلقہ ڈیٹا حاصل کرکے کلیئرنگ ہاؤس کو بھیجے گا۔ اس کے بعد یہ معلومات ادائیگی کرنے والے بینک تک پہنچائی جائیں گی تاکہ چیک کی جانچ اور ادائیگی کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

اس عمل میں نیشنل انسٹی ٹیوشنل فیسلیٹیشن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (NIFT) کے زیرِ انتظام کلیئرنگ ہاؤس مرکزی کردار ادا کرے گا۔ الیکٹرانک تصاویر کے استعمال سے چیکس کی جسمانی نقل و حرکت پر انحصار کم ہونے اور بینکوں کے درمیان کلیئرنگ کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کے طے کردہ منصوبے کے مطابق پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم کو تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔

پہلا مرحلہ: 15 اکتوبر سے 15 نومبر 2026

ابتدائی مرحلے میں اسٹیٹ بینک کی مشاورت سے منتخب کردہ کلیئرنگ ہاؤس کے شرکا نئے نظام کا استعمال شروع کریں گے۔ اس دوران عملی مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ ادارے اپنی تیاریوں اور کارکردگی سے متعلق رپورٹ مرتب کرکے اسٹیٹ بینک کو پیش کریں گے۔

دوسرا مرحلہ: 16 نومبر سے 31 دسمبر 2026

دوسرے مرحلے میں باقی شریک مالیاتی اداروں کو بھی نظام میں شامل کیا جائے گا۔ بینک اپنی برانچوں میں چیک کی الیکٹرانک تصاویر کے ذریعے کارروائی کرنے کی صلاحیت بتدریج بڑھائیں گے۔

تیسرا مرحلہ: 30 اپریل 2027 تک

آخری مرحلے میں تمام متعلقہ مالیاتی اداروں کو ضروری تکنیکی نظام اور بنیادی ڈھانچہ مکمل کرکے ملک بھر میں اس سہولت کے نفاذ کے لیے تیار ہونا ہوگا۔

15 اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک نظام کے ابتدائی نفاذ کے دوران روزانہ کلیئرنگ کا ایک اضافی دور چلانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اعلان کردہ شیڈول کے مطابق کلیئرنگ ہاؤس اس اضافی دور کی تفصیلات سہ پہر 3 بجے تک اسٹیٹ بینک کو جمع کرائے گا۔

اس اقدام کا مقصد منتقلی کے مرحلے میں کلیئرنگ کی صلاحیت بہتر بنانا اور بینکوں کے درمیان چیکس کی کارروائی کو منظم کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کلیئرنگ ہاؤس کے رکن مالیاتی اداروں کو متعلقہ عملے کی تربیت اور نئے طریقہ کار سے آگاہی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بینکوں کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کو نئے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

مالیاتی اداروں کو نظام کے نفاذ کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے اور پیش رفت سے متعلق معلومات اسٹیٹ بینک کو فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اس دوران متعلقہ قوانین، کلیئرنگ کے مقررہ اوقات، صارفین کی خدمات کے معیار اور ادائیگیوں سے متعلق تقاضوں پر عمل کرنا ہوگا۔

نئے نظام کے تحت چیکس کی کلیئرنگ کے عمل میں اصل کاغذی چیک کی جسمانی منتقلی کے بجائے اس کی الیکٹرانک تصویر اور متعلقہ ڈیٹا استعمال کیا جائے گا۔ اس سے بینکوں کے درمیان کارروائی میں وقت اور انتظامی اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم نظام کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا، اس لیے تمام بینک برانچوں میں سہولت بیک وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ چیک جمع کرانے، کلیئرنگ کے اوقات اور متعلقہ طریقہ کار کے بارے میں اپنے بینک سے معلومات حاصل کریں۔

30 اپریل 2027 کی تاریخ ملک بھر میں نظام کے نفاذ کا ہدف ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیک اسی دن یا فوری طور پر کلیئر ہو جائے گا۔