ملک میں یکم جنوری 2027 سے بجلی کے نئے ٹیرف کے تحت بنیادی نرخ 27.31 روپے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کے نرخوں کی آئندہ نظرثانی کے لیے بنیادی تخمینوں میں بجلی کی مجموعی خریداری کی لاگت 3.55 ٹریلین روپے رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
بجلی کی خریداری کی قیمت 2027 میں بڑھ کر 27.309 روپے فی کلو واٹ آور یعنی فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ تخمینے واپڈا کی سابقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں پر نظرثانی کے عمل کا حصہ ہیں، جس کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے متوقع ہے۔
نئے دور کے لیے بجلی کے نرخوں کے تعین میں نظرثانی شدہ بنیادی لاگت یعنی ریفرنس کاسٹ اہم بنیاد ہوگی، جس کی روشنی میں صارفین کے لیے ٹیرف مقرر کیے جائیں گے۔
بجلی چوری کرنے والوں کے لیے اسمارٹ میٹر مہنگا پڑے گا
دوسری جانب بجلی چوری اور میٹر میں غیر قانونی ردوبدل کے خلاف کارروائی کے تحت صارفین سے اے ایم آئی اسمارٹ سنگل فیز میٹر کی قیمت وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لیسکو نے میٹر میں ٹمپرنگ یا بجلی چوری کے لیے ہیرا پھیری کی صورت میں متعلقہ صارفین کو اسمارٹ میٹر کی قیمت کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔
ایسے صارفین کو اب اے ایم آئی اسمارٹ سنگل فیز میٹر کی مد میں 14 ہزار 400 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
اس سے قبل ایسے معاملات میں اسمارٹ میٹر کے بجائے اسٹیٹک میٹر کی قیمت کا ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا جاتا تھا، جس کی مالیت 5 ہزار 500 روپے تھی۔
لیسکو کی جانب سے اب اسٹیٹک میٹر کی جگہ اے ایم آئی اسمارٹ سنگل فیز میٹر کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے جارہے ہیں، جس کے باعث بجلی چوری یا میٹر میں ٹمپرنگ کرنے والے صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔
اس اقدام کا مقصد بجلی چوری اور میٹر میں غیر قانونی ردوبدل کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔






