امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کے باوجود خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کیپلر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی خطے سے خام تیل کی برآمدات، بشمول آبنائے ہرمز اور متبادل راستوں کے ذریعے جانے والی کھیپ، 18 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اوسطاً 2 کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ حجم 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ تھا۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے اور خلیج عمان میں جہاز سے جہاز میں تیل کی منتقلی کا اوسط حجم تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ رہا، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے 82 فیصد کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی تحفظ، سمندر میں جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی متبادل پائپ لائنوں کے استعمال نے برآمدات کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔
ستمبر کے مہینے میں خلیج سے غیر ایرانی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کا بائی پاس کر کے آگے بھیجا گیا، جبکہ جنگ سے پہلے یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔
رواں ماہ بحری جہازوں کو پیش آنے والے تقریباً 30 واقعات اور حملوں میں اضافے کے باوجود یہ برآمدات جاری ہیں۔ کیپلر کے تجزیہ کار ہمایوں فلک شاہی کا کہنا ہے کہ خطرات کے باوجود تیل کے بھاری منافع کی وجہ سے یہ تجارت جاری ہے۔






