حکومت نے گیس سیکٹر میں اصلاحات اور قیمتوں کے نظام میں تبدیلی کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین کو منتقل کرنے اور گیس کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط اور مطالبات کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کو درپیش مالی مسائل حل کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ ان میں گیس کی قیمتوں کے نظام میں تبدیلی، نجی شعبے کی شمولیت اور سرکاری گیس کمپنیوں کی نجکاری جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد گیس سیکٹر کے مالی دباؤ کو کم کرنا اور اس کے نظام میں بہتری لانا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 3 ہزار 600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا مالی مسئلہ بن گئی ہے۔ اس قرضے میں کمی لانے اور شعبے کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے لیے مختلف تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔
حکومت سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی نجکاری کے منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ گیس کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔ حکومتی سطح پر یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے گیس کی فراہمی اور مالی انتظام کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت گیس سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور نجی شعبے کو زیادہ مواقع دینے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ گزشتہ اقتصادی جائزے کے دوران بھی تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے۔ اب حکومت ان تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں وزارت خزانہ، وزارت پٹرولیم اور دیگر متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں گیس سیکٹر کے مالی مسائل، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور نجی شعبے کی شمولیت جیسے معاملات شامل ہوں گے۔ تیار ہونے والے منصوبے کو وزیراعظم کی ابتدائی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے ابتدائی تجاویز کی منظوری کے بعد گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور ڈی ریگولیشن کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم فی الحال یہ تجاویز زیر غور ہیں اور گیس کی قیمتوں میں اضافے یا کمپنیوں کی نجکاری کے بارے میں کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔






