اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس میں ستمبر کے دوران سالانہ بنیادوں پر 756 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا ہے۔
وزارتِ مالیات کے ذیلی ادارے اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے پاکستان کے غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں سنسنی خیز اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کو 3 ارب 74 کروڑ ڈالرز کا غیر ملکی قرضہ اور گرانٹس موصول ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال ستمبر 2025 میں پاکستان کو صرف 43 کروڑ 67 لاکھ ڈالرز ملے۔ اس طرح ستمبر کے ایک ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 756 فیصد کا بہت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جولائی تا ستمبر 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی غیر ملکی قرضوں اور گرانٹ میں 200 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جہاں پاکستان کو کل 5 ارب 45 کروڑ ڈالرز موصول ہوئے۔
اس رقم میں سے 5 ارب 42 کروڑ ڈالر براہ راست غیر ملکی قرضہ تھا، جبکہ صرف 2 کروڑ 65 لاکھ ڈالرز کی گرانٹس شامل تھیں۔ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ حجم صرف ایک ارب 82 کروڑ ڈالرز تھا۔
رپورٹ کے مطابق 3 ماہ کے دوران تجارتی بینکوں کی جانب سے 30 کروڑ امریکی ڈالر کا تجارتی قرض فراہم کیا گیا۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت 94 کروڑ 27 لاکھ ڈالر اور اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقوم حاصل ہوئیں۔
مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چین سے ستمبر میں 15 کروڑ 89 لاکھ ڈالر اور 3 ماہ میں 30 کروڑ 55 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
سعودی عرب سے 3 ماہ میں ایک کروڑ 28 لاکھ ڈالر، فرانس سے 2 کروڑ ڈالر، اور جرمنی سے ایک کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی مالی امداد ملی۔
عالمی مالیاتی اداروں میں عالمی بینک نے 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک نے 15 کروڑ 35 لاکھ ڈالر، عالمی بینک برائے تعمیر نو و ترقی نے 8 کروڑ 37 لاکھ ڈالر اور اسلامی ترقیاتی بینک نے 3 ماہ میں 23 کروڑ 84 لاکھ ڈالر کا قرض فراہم کیا۔






