پاکستان کی مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 میں موٹر سائیکلوں کے درآمدی پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم کرنا اور مقامی صنعت کو بہتر انداز میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں سے موٹر سائیکلوں، موٹر سائیکل رکشوں اور موپیڈز کے اسمبلی پرزوں کی درآمد پر اثر پڑ سکتا ہے۔
20 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پالیسی کے مسودے میں نان لوکلائزڈ سی کے ڈی (CKD) پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سی کے ڈی سے مراد ایسے پرزے ہیں جو الگ الگ حالت میں درآمد کیے جاتے ہیں اور بعد میں مقامی طور پر جوڑ کر گاڑی یا موٹر سائیکل تیار کی جاتی ہے۔
مجوزہ پالیسی میں مقامی طور پر تیار ہونے والے یا لوکلائزڈ کیٹیگری میں شامل پرزوں پر بھی ڈیوٹی کم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی موجودہ حوالہ شرح 46 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس شرح کو مختلف مراحل میں کم کرکے مالی سال 2030-31 تک 15 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔
موٹر سائیکل کے پرزوں پر ڈیوٹی کی نئی مجوزہ شرحیں
مسودے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں نان لوکلائزڈ پرزوں پر حوالہ شرح 15 فیصد جبکہ لوکلائزڈ کیٹیگری کے پرزوں پر 46 فیصد ہے۔ مالی سال 2026-27 میں نان لوکلائزڈ پرزوں کی ڈیوٹی کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ لوکلائزڈ پرزوں پر شرح 30 فیصد رکھی جائے گی۔
مالی سال 2027-28 کے لیے بھی یہی شرحیں برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس دوران نان لوکلائزڈ پرزوں پر ڈیوٹی 5 فیصد اور لوکلائزڈ پرزوں پر 30 فیصد رہ سکتی ہے۔ مالی سال 2028-29 میں لوکلائزڈ پرزوں کی شرح مزید کم کرکے 25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ نان لوکلائزڈ پرزوں پر 5 فیصد ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح مالی سال 2029-30 میں بھی نان لوکلائزڈ پرزوں پر ڈیوٹی 5 فیصد اور لوکلائزڈ پرزوں پر 25 فیصد رکھنے کا منصوبہ ہے۔ مجوزہ شیڈول کے آخری مرحلے میں مالی سال 2030-31 تک لوکلائزڈ پرزوں پر ڈیوٹی مزید کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کیا موٹر سائیکلوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟
اگر حکومت ان تجاویز کی منظوری دے دیتی ہے تو موٹر سائیکل تیار کرنے والی کمپنیوں کو بعض درآمدی پرزے کم ڈیوٹی پر حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس سے ان کی پیداواری لاگت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ تاہم، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کا فائدہ صارفین کو موٹر سائیکلوں کی کم قیمتوں کی صورت میں ضرور ملے گا۔
موٹر سائیکل کی حتمی قیمت صرف درآمدی پرزوں پر عائد ڈیوٹی سے طے نہیں ہوتی۔ اس میں خام مال، مقامی پرزوں کی قیمت، مزدوری، بجلی، نقل و حمل، دیگر ٹیکس اور کمپنی کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈیوٹی میں کمی کے باوجود مارکیٹ میں قیمتوں کا انحصار دیگر عوامل پر بھی ہوگا۔
مقامی پرزہ ساز صنعت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
مجوزہ آٹو پالیسی سے موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو درآمدی پرزوں کے حصول میں سہولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ مقامی پرزہ ساز کمپنیوں کو مقابلے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر درآمدی پرزے کم ڈیوٹی کے باعث سستے دستیاب ہوئے تو مقامی صنعت کے لیے اپنی مصنوعات کی قیمتیں اور معیار برقرار رکھنا اہم ہو جائے گا۔
اس لیے پالیسی پر عمل درآمد کے دوران مقامی صنعت کے تحفظ اور پیداواری لاگت کم کرنے کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہوگا۔ اس سے ایک طرف موٹر سائیکل تیار کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی پرزے بنانے والے اداروں کے لیے بھی مناسب مواقع برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ آٹو پالیسی 2026-31 کی یہ تجاویز ابھی حتمی طور پر نافذ نہیں ہوئی ہیں۔ ان پر عمل درآمد حکومتی منظوری اور متعلقہ کسٹم نوٹیفکیشن سے مشروط ہے۔ اس لیے صارفین کو فی الحال موٹر سائیکلوں یا ان کے اسپیئر پارٹس کی قیمتوں میں فوری کمی کو یقینی نہیں سمجھنا چاہیے۔ حتمی فیصلے اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس پالیسی کے اصل اثرات واضح ہوں گے۔






