تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
کاروبار

گندم درآمد نہ کی تو روٹی 50 روپے تک پہنچنے کا خدشہ، فلور ملز ایسوسی ایشن کا انتباہ

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے ملک میں گندم کی ممکنہ قلت اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے خبردار کردیا ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر گندم درآمد نہ کی تو روٹی کی قیمت 50 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت حال میں عام شہریوں کے لیے روزمرہ خوراک کے اخراجات برداشت کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق گندم کی دستیابی میں کمی سے آٹے سمیت دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گندم کی قلت برقرار رہی تو آٹے کی قیمت 200 سے 250 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح میدے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافے کا امکان ہے اور یہ 225 روپے فی کلو تک جاسکتی ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ گندم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ بروقت گندم درآمد نہ کرنے کی صورت میں آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کی مشکلات بڑھا سکتا ہے۔

سندھ کے گوداموں میں گندم خراب ہونے کے الزامات

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کے گوداموں میں موجود گندم کے ذخائر کے حوالے سے بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے دعوے کے مطابق کراچی کے گوداموں میں 16 ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم خراب ہوچکی ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گندم کی مجموعی طور پر ساڑھے 13 لاکھ بوریوں میں سے تقریباً 3 لاکھ بوریاں چوری ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوداموں میں موجود 9 لاکھ بوریاں اس حد تک گل سڑ چکی ہیں کہ وہ جانوروں کے کھانے کے قابل بھی نہیں رہیں۔

ان الزامات کے باعث سرکاری گندم کے ذخائر کی حفاظت اور انتظامات سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ تاہم، گندم کی چوری، خراب ہونے اور اس کی مالیت سے متعلق اعداد و شمار فلور ملز ایسوسی ایشن کے دعوے ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

اندرون سندھ میں گندم کی موجودگی کا دعویٰ

فلور ملز ایسوسی ایشن نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اندرون سندھ میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔ تاہم، ایسوسی ایشن کے مطابق اس گندم پر مختلف سیاسی شخصیات نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ اس معاملے میں بھی متعلقہ فریقوں کی جانب سے وضاحت یا سرکاری تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔

ایسوسی ایشن کے انتباہ کے مطابق اگر گندم کی دستیابی اور ذخائر کے مسائل حل نہ کیے گئے تو آٹے، میدے اور روٹی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا، خاص طور پر ان خاندانوں پر جن کے روزانہ کے اخراجات میں آٹا اور روٹی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔