اسلام آباد (جی ٹی وی نیوز اردو): پاکستان کے شمالی علاقوں میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت 750 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے سردیوں کی آمد سے قبل گھریلو صارفین کے ایندھن کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق حکومت ایل پی جی کی قیمتیں مقرر کرنے کے موجودہ ماہانہ نظام کی جگہ روزانہ نرخ طے کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت گیس سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے تجاوز کرسکتی ہے، تاہم یہ ممکنہ قیمت ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ایل پی جی کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کی تجویز
مجوزہ تبدیلی کا مقصد سردیوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محدود کرنا اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام ہے۔ موجودہ نظام میں قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر مقرر ہوتی ہیں، جبکہ نئے طریقہ کار کے تحت مارکیٹ کی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ نرخ روزانہ تبدیل کیے جاسکیں گے۔
ایل پی جی درآمد کرنے والے تاجروں نے بھی موجودہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ درآمد کنندگان کی تجویز ہے کہ قیمتیں ماہانہ کے بجائے ہفتہ وار یا روزانہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں تاکہ بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی ہوسکے۔
سردیوں میں گھریلو صارفین کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ
پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 750 روپے فی کلو تک پہنچنے سے ان گھرانوں کے لیے اخراجات بڑھ گئے ہیں جو سرد موسم میں کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے اس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔
اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو گیس سلنڈر خریدنے والے صارفین پر اضافی مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم روزانہ نرخ مقرر کرنے کی تجویز ابھی زیرِ غور ہے اور اس کے نفاذ، قیمتوں پر ممکنہ اثرات اور سلنڈروں کے حتمی نرخوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔






