پاکستان کی مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت سوزوکی کلٹس کی قیمت میں 5 لاکھ روپے تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہوگئی تو گاڑی کی قیمت تقریباً 43 لاکھ روپے سے کم ہو کر 38 لاکھ روپے تک آسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پانچ سالہ آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ اب اس مسودے کو منظوری کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھیجا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد اسے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے گی۔
مجوزہ آٹو پالیسی میں گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیز میں تبدیلیوں کی تجاویز شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ملک میں گاڑیوں کی صنعت سے متعلق ٹیکس نظام میں ترمیم کرنا ہے۔ اگر ان تجاویز کو منظوری مل جاتی ہے تو گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پالیسی کے تحت 2031 تک روایتی انجن والی گاڑیوں اور اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) پر کسٹم ڈیوٹی کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کسٹم ڈیوٹی میں کمی سے درآمدی گاڑیوں اور متعلقہ شعبوں کی لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم، گاڑیوں کی حتمی قیمت کا انحصار دیگر ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور کمپنیوں کی قیمتوں کے تعین پر بھی ہوگا۔
سوزوکی کلٹس کی قیمت میں ممکنہ کمی کی خبر سے گاڑی خریدنے کے خواہش مند افراد کی دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔ موجودہ اندازے کے مطابق اگر قیمت میں 5 لاکھ روپے کمی ہوتی ہے تو گاڑی تقریباً 38 لاکھ روپے میں دستیاب ہوسکتی ہے۔ لیکن اس وقت اسے حتمی قیمت نہیں سمجھنا چاہیے۔
حکومت یا سوزوکی کمپنی کی جانب سے کلٹس کی نئی قیمت کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے خریداروں کو مجوزہ قیمت کو حتمی فیصلہ سمجھنے کے بجائے سرکاری اعلان کا انتظار کرنا چاہیے۔






