پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں آئندہ ایک سے دو روز کے دوران فی کلو 50 روپے تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایل پی جی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر علی حیدر کے مطابق سپلائی میں بہتری کے نتیجے میں صارفین کو قیمتوں میں ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم یہ پیش گوئی ہے، حتمی کمی کا انحصار مارکیٹ میں دستیاب گیس، نقل و حمل کے اخراجات اور متعلقہ قیمتوں کے تعین پر ہوگا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق 16 اکتوبر تک ایران سے ایل پی جی لے جانے والے تقریباً 900 باؤزرز کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔ متعلقہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس اضافی سپلائی سے مارکیٹ میں دستیابی بہتر ہوسکتی ہے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم باؤزرز کی تعداد اور ان میں موجود گیس کی مقدار سے متعلق تفصیلات کی الگ سرکاری تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے قیمتوں میں متوقع کمی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
سپلائی میں بہتری سے صارفین کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
ایل پی جی ان علاقوں میں گھریلو ایندھن کا اہم ذریعہ ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے۔ چھوٹے کاروبار، ہوٹل اور بعض صنعتی شعبے بھی ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اس کی قیمت میں کمی سے گھریلو صارفین کے ساتھ کاروباری اداروں کے اخراجات پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔
علی حیدر کے مطابق اکتوبر کے دوران ایل پی جی کے پانچ بحری جہاز درآمد کیے گئے، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 22 ہزار ٹن گیس کی آمد کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے بقول بہتر سپلائی سے مارکیٹ میں دستیابی بڑھنے اور قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم اصل ریلیف اسی وقت سامنے آئے گا جب صارفین کو مقامی بازاروں میں کم نرخوں پر گیس دستیاب ہوگی۔
قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر اعتراضات
ایل پی جی کمیٹی کے کنوینر نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ماہانہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں کے جائزے کی تجویز دی۔ ان کا مؤقف ہے کہ سپلائی اور مارکیٹ کی صورت حال میں تیزی سے تبدیلی آنے کی صورت میں قیمتوں کے زیادہ باقاعدہ جائزے سے صارفین کو حالات کے مطابق ریلیف مل سکتا ہے۔
تاہم قیمتوں کے تعین میں تبدیلی کے لیے متعلقہ ضابطوں اور ریگولیٹری فیصلوں کی ضرورت ہوگی۔ صرف سپلائی بڑھنے سے ہر علاقے میں قیمت فوری طور پر ایک جیسی کم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ نقل و حمل، مقامی طلب اور تقسیم کے اخراجات بھی نرخوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
صارفین کو چاہیے کہ ایل پی جی خریدتے وقت مقامی نرخوں کا موازنہ کریں، سلنڈر کے وزن اور معیار کی جانچ کریں اور غیر محفوظ طریقے سے گیس ذخیرہ کرنے سے گریز کریں۔ متوقع قیمت میں کمی کے بارے میں حتمی صورت حال جاننے کے لیے اوگرا اور متعلقہ مارکیٹ ذرائع کے تازہ اعلانات دیکھنا ضروری ہوگا۔






