عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورت حال سے متعلق اپنی رپورٹ میں رواں سال مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
یہ پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی ملک میں قیمتوں کے دباؤ اور مہنگائی کے مستقبل کے بارے میں خدشات ظاہر کرچکا ہے۔ رپورٹ میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کو مہنگائی کے منظرنامے سے متعلق اہم عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ 2026 سے منسوب فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ملک کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ اسی دوران مالی سال 2025–26 میں شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح 7.4 فیصد بتائی گئی، جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے برابر رہا۔ یہ اعدادوشمار معاشی سرگرمی اور قیمتوں کے دباؤ کی مختلف جہتوں کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم ان کی درست مدت اور تعریف سمجھنے کے لیے رپورٹ کے اصل متن کا جائزہ ضروری ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
رپورٹ میں فروری سے جون 2026 کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 36 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت لگ بھگ 31 فیصد بڑھی۔ اسی مدت کے دوران مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں تقریباً 46 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سامان کی ترسیل، زرعی سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور روزمرہ کاروبار کے اخراجات کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ جب نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کو منڈیوں تک پہنچانے کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر بالآخر صارفین کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان رہتا ہے۔
ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے
فراہم کردہ رپورٹ میں فروری سے جون کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں میں تقریباً 30 فیصد اضافے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اگر سفر کے اخراجات بڑھیں تو روزانہ کام پر جانے والے افراد، طلبہ، مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں کے بجٹ پر اضافی دباؤ پڑسکتا ہے۔ اسی طرح نقل و حمل پر زیادہ خرچ ہونے سے اشیا کی مجموعی لاگت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں مہنگائی کے خدشات کو مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ فراہم کردہ متن کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی نے تیل کی فراہمی کو متاثر کیا اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔ تاہم عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے علاوہ مقامی ٹیکس، شرحِ مبادلہ، انتظامی فیصلے اور رسد و طلب بھی پاکستان میں قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا اندازہ اور عوامی بجٹ
فراہم کردہ رپورٹ میں آئی ایم ایف کی جانب سے موجودہ مالی سال میں مہنگائی 10 فیصد تک پہنچنے کے امکان کا بھی ذکر ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اندازے مختلف معاشی مفروضوں اور پیش گوئیوں پر مبنی ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں یقینی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مہنگائی کی اصل شرح مستقبل میں توانائی کی قیمتوں، معاشی پالیسی، رسد اور طلب سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوگی۔
گھریلو سطح پر بڑھتی قیمتوں کا اثر خصوصاً ان خاندانوں پر زیادہ ہوسکتا ہے جن کی آمدن کا بڑا حصہ خوراک، سفر، بجلی اور گیس پر خرچ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے اعدادوشمار کی حتمی تصدیق اور ان کے معاشی مفہوم کو سمجھنے کے لیے عالمی بینک کی اصل اشاعت دیکھنا ضروری ہے۔






