وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی صارفین کو غلط اور من مانے ڈیٹیکشن بلوں سے بچانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے بورڈز کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں صارفین کو جاری کیے جانے والے ڈیٹیکشن بلوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر غلط بلنگ اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے معاملات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیر توانائی نے واضح کیا کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن اس کی آڑ میں کسی صارف کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔
اویس لغاری نے اعلان کیا کہ فیلڈ عملے اور سب ڈویژنل افسران (ایس ڈی اوز) کی جانب سے دستی طور پر ڈیٹیکشن بل جاری کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ آئندہ کوئی افسر یا اہلکار اس طریقے سے بل جاری نہیں کر سکے گا۔ اگر کوئی ملازم اس پابندی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے سنگین بدانتظامی تصور کیا جائے گا۔ ایسے افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
حکومت نے ڈیٹیکشن بلنگ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے ایک خصوصی مرکزی آن لائن پورٹل بھی تیار کر لیا ہے۔ اب تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے اسی پورٹل کے ذریعے ڈیٹیکشن بل جاری کرنا لازمی ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد بلنگ کے عمل کو شفاف بنانا اور من مانی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے بلوں کا ریکارڈ بھی بہتر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے گا۔
اجلاس میں خراب اور جلے ہوئے بجلی کے میٹروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔ ہدایات کے مطابق ایسے میٹروں کو زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکلز، یعنی دو ماہ کے اندر تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر میٹر خراب ہونے کی وجہ سے صارف کو اوسط بل بھیجا جاتا ہے تو یہ سلسلہ بھی صرف دو ماہ تک محدود رہے گا۔ اس کے بعد میٹر کی تبدیلی میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
اسی طرح اگر کسی بجلی کے میٹر کی رفتار سست یا تیز پائی جاتی ہے تو اس کی بنیاد پر اضافی رقم کی وصولی بھی گزشتہ دو بلنگ سائیکلز تک محدود ہوگی۔ اس فیصلے سے ان صارفین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جن کے میٹر خراب ہونے یا درست رفتار سے کام نہ کرنے کی وجہ سے بلنگ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
حکومت نے بجلی کے غیر قانونی استعمال کی صورت میں ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کی مدت بھی مقرر کر دی ہے۔ عام صارفین کے لیے یہ مدت تین ماہ ہوگی۔ رجسٹرڈ صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کا ڈیٹیکشن بل جاری کیا جا سکے گا، جبکہ غیر رجسٹرڈ صارفین کے لیے یہ حد بارہ ماہ مقرر کی گئی ہے۔ ان حدود کا مقصد ڈیٹیکشن بلنگ کے عمل کو واضح اصولوں کے تحت لانا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ کنزیومر سروس مینوئل میں تبدیلیوں کے لیے تجاویز آئندہ چند روز میں پیش کی جائیں گی۔ ان ترامیم کا مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ اور بلنگ کے معاملات میں شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز اور متعلقہ کمیٹیاں ہر ماہ ڈیٹیکشن بلوں کی جانچ پڑتال کریں گی۔ اس جائزے کے دوران بلوں کی درستگی اور مقررہ قواعد پر عمل درآمد کو دیکھا جائے گا۔






