تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
کاروبار

ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویز

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی قیمتوں میں شفافیت لانے اور مقررہ نرخوں سے زیادہ رقم وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عوام کو مناسب قیمت پر ایل پی جی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایل پی جی کی درآمد اور مارکیٹ میں اس کی دستیابی بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صارفین کو گیس کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انہیں مناسب قیمت پر ایل پی جی مل سکے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی روزانہ کھپت تقریباً 6 ہزار 500 سے 7 ہزار ٹن ہے۔ اس میں سے لگ بھگ ڈھائی ہزار ٹن ایل پی جی ملک کے اندر تیار ہوتی ہے۔ باقی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ اس لیے مقامی پیداوار کے ساتھ درآمدی گیس کی بروقت فراہمی بھی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کی قیمتوں کو منظم کرنے اور ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے جو مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ ایل پی جی کی فروخت میں شفافیت ہو اور صارفین سے غیر ضروری طور پر زیادہ رقم نہ لی جائے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں فرق اور عدالتی مقدمات

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ایل پی جی کی مارکیٹ قیمت اور مقامی قیمت کے درمیان تقریباً 30 ارب روپے کا فرق موجود ہے۔ بعض افراد نے عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے حکومتی اقدامات میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ زیر التوا مقدمات میں حکم امتناع ختم کرانے کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے ایل پی جی کی قیمتوں کو بہتر انداز میں منظم کرنے اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ایل پی جی کی مناسب قیمت 400 سے 425 روپے فی کلو کے درمیان ہونی چاہیے۔ تاہم، یہ بیان قیمت کے حوالے سے حکومتی مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے حتمی طور پر نافذ کردہ سرکاری نرخ نہیں سمجھنا چاہیے۔ صارفین کو خریداری کے وقت متعلقہ سرکاری نرخ اور فروخت کی قیمت کی تصدیق کرنی چاہیے۔

سردیوں میں گیس کی فراہمی بہتر بنانے کا منصوبہ

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے نومبر سے فروری تک سردیوں کے موسم میں عوام کو گیس فراہم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ اس منصوبے کے تحت کوشش کی جائے گی کہ شہریوں کو کھانا پکانے کے لیے دن کے تینوں اوقات میں گیس دستیاب ہو۔

سردیوں میں گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران گھریلو صارفین کو اکثر گیس کی کمی اور کم دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تیار کی گئی حکمت عملی کا مقصد ان مشکلات کو کم کرنا اور گھریلو ضروریات کے لیے گیس کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔

ایل پی جی ان علاقوں میں بھی اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں ہوتی یا اس کی فراہمی محدود ہوتی ہے۔ ایسے علاقوں میں قیمتوں میں اضافہ براہ راست گھریلو اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایل پی جی کی مناسب قیمت اور مسلسل دستیابی عوام کے لیے اہم مسئلہ ہے۔